خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 376

خلیج کا بحران — Page 47

۴۷ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء راہنماؤں کے بڑے بڑے بیانات آرہے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ امریکہ کی طرف دوڑو اور اس سے پناہ لو اور اس سے مدد لو اور کوئی ایران سے صلح کر رہا ہے یا اپنی تقویت کی اور باتیں بیان کر رہا ہے۔کسی ایک نے بھی خدا کی پناہ میں جانے کا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی پناہ میں جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔کسی نے یہ نصیحت نہیں کی کہ اے مسلمانو! یہ دعا کا وقت ہے دعا ئیں کرو۔کیونکہ دعاؤں کے ذریعہ ہی تمہیں دشمن پر غلبہ نصیب ہوگا۔پس ایک جماعت ہے اور صرف ایک جماعت ہے جو مسیح محمد مصطفی ﷺ کی جماعت ہے جس کے متعلق خدا نے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ اگر عالم اسلام کو بچایا گیا تو اس جماعت کی دعاؤں سے بچایا جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ وہ محد مصطفی ﷺ کی عظمت میں پناہ لیں، آپ کی تعلیم میں پناہ لیں ، آپ کے کردار میں پناہ لیں۔آپ کی سنت میں پناہ لیں اور پھر دعائیں کریں۔پس اس سارے مسئلے کا اگر کوئی عارضی حل تجویز بھی کیا گیا تو ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ وہ حل پہلے سے بدتر حال کی طرف مشرق وسطی کے رہنے والوں کو بھی لوٹائے گا اور دنیا کو بھی لوٹائے گا۔بہت درد ناک حالات پیدا ہونے والے ہیں اور جہاں تک بیماریوں اور دکھوں کا تعلق ہے اس کا کوئی حل نہیں ہوگا۔وہ حل اگر ہے تو آپ کے پاس یعنی مسیح محمدی" کی جماعت کے پاس ہے آپ دعائیں کریں اور دعائیں کرتے چلے جائیں کیونکہ یہ تکلیفوں کا زمانہ ابھی لمبا چلنے والا ہے۔ابھی حالات نے کئی پلٹے کھانے ہیں، کئی نئے ادوار میں داخل ہونا ہے اس لئے دعا کے لحاظ سے ابھی تا خیر نہیں ہے۔ہم تو پہلے بھی دعائیں کرنے والے لوگ ہیں لیکن آج کی دنیا میں ان حالات کے پیش نظر، اس تجزیے کے پیش نظر جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دعا کے سوا آج ان دنیا کی امراض کا اور امت مسلمہ کی امراض کا اور کوئی چارہ نہیں اور اہل مغرب کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا ان کو عقل دے، بار بار وہ اپنی چالا کیوں اور اعلیٰ سیاست کے ذریعے دنیا کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں اور ہر بار نا کام رہے ہیں ایک بار بھی ان کی چالاکیاں دنیا کے کام نہیں آئیں کیونکہ ان کی چالاکیوں میں خود غرضی ہوتی ہے اور نفسانیت محرک بنتی ہے آخری