خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 376

خلیج کا بحران — Page 37

۳۷ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء دوسری نفرت کی طرف رخ پھیرا جائے۔پہلا انقلاب بھی نفرت کی بنا پر تھا اور وہ نفرت شاہ ایران اور اس کے پس منظر میں اس کے طاقتوار حلیف اور سر پرست امریکہ کی نفرت تھی۔چنانچہ یہی نفرت انہوں نے مذہبی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کی اور امریکہ کو شیطان اعظم کے طور پر پیش کیا اور ہر طرح سے قوم کے ان مذہبی جذبات کو زندہ رکھا جو نفرت سے تعلق رکھتے ہیں اور اس بنا پر اس کے رد عمل میں خمینی ازم کو تقویت ملنی شروع ہوئی۔پس پہلے بھی اس علاقے میں جو بدامنی ہوئی۔جو خوفناک جنگیں لڑی گئیں یا فسادات برپا ہوئے یا قتل و غارت ہوئی یا نا انصافیاں ہوئیں ان کی بھی بنیادی ذمہ داری مغرب پر عائد ہوتی ہے اور بنیادی اس لئے کہ شاہ کے مظالم میں بھی مغرب ہی کی سر پرستی شامل تھی اور ذمہ داری تھی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ جسے آج دنیا میں تجس کے نظام پر اتنا عبور حاصل ہو چکا ہے کہ دور دور کے ایسے واقعات جن کے متعلق اس ملک کے رہنے والے بھی ابھی شعور نہیں پاتے ابھی احساس ان کے اندر بیدار نہیں ہوتا، ان کی انٹیلی جنس کی رپورٹیں ان کو بھی ان سے باخبر کر دیتی ہیں۔چنانچہ یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک میں جو کئی انقلابات ہوئے ان میں امریکہ سے یہ شکوہ بھی کیا گیا کہ ہمیں خبر نہیں دی۔یعنی ایک راہنما کی حکومت الٹی ہے، ایک پارٹی کو الٹایا گیا ہے اور وہ امریکہ سے شکوہ کر رہے ہیں کہ عجیب لوگ ہیں ہمیں خبر ہی نہیں دی۔جس ملک میں رہتے ہو تمہیں اپنے ملک کی خبر نہیں اور شکوہ کر رہے ہو کہ ہمیں خبر نہیں دی پس شعور کی کمی جتنی زیادہ مشرق میں نمایاں ہوتی چلی جارہی ہے اور اپنے حالات سے بے حسی جتنی بڑھتی جا رہی ہے اتنا ہی ان قوموں کے اندر دوسروں کا شعور بیدار ہو رہا ہے اور دوسروں کے معاملات میں حس تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے۔پس یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کو پتا نہ ہو کہ شاہ ایران نے کیسے سخت مظالم توڑے ہیں اور ان کا کتنا خطرناک رد عمل ہے جو ملک میں پنپ رہا ہے۔ان مظالم کے دوران اس کے سر پر ہاتھ رکھنے کی اول ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی باشعور انسان امریکہ کو اس ذمہ داری سے مبرا نہیں کر سکتا۔اس میں دشمنی یا جذبات کی بات نہیں ایک ایسی حقیقت ہے جو ادنی سی سمجھ رکھنے