خلیج کا بحران — Page 38
۳۸ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء والا دانشور بھی آج یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ شہنشاہیت جو ایران کی شہنشاہیت ہے وہ امریکہ کی پروردہ تھی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سارے رد عمل کی ذمہ داری اصل میں امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور اس رد عمل کو سنبھالنے کے لئے امریکہ نے جو طریق کا راختیار کیا وہ بھی ان کے مفاد میں یا ان کے نزدیک دنیا کے مفاد میں ضروری تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ اس رد عمل سے اب دو ہی طاقتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں یا خمینی ازم ، مذہب کی طاقت اور یا پھر اشتراکیت ہے اور اشتراکیت چونکہ زیادہ سخت دشمن تھی اور اس دور میں اگر اشتراکیت کو یہاں غلبہ نصیب ہو جاتا تو جو صلح آج روس اور امریکہ کے درمیان میں ہوئی ہے وہ کبھی واقعہ نہیں ہوسکتی تھی۔پھر صدامیت پیدا نہ ہوتی پھر روس کی طرف سے اور روسی ایران کی طرف سے مشرق وسطی کے امن کو شدید خطرہ درپیش ہوتا اور ایسا خطرہ درپیش ہوتا جس کا کوئی مقابلہ ان کے پاس نہیں تھا، مقابلہ کرنے کی کوئی طاقت ان کے پاس نہیں تھی۔پس بہر حال اپنے مفاد میں اور جسے جس طرح یہ پیش کرتے ہیں کہ ساری دنیا کے امن کے مفاد میں انہوں نے خمینی ازم کو پیدا کیا اور اس کی پرورش کی۔یہاں تک کہ جب وہ طاقت پکڑ گیا تو انہوں نے اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے اپنے نظام کی بقاء کی خاطر اور امریکہ کے بداثرات سے اسے بچانے کے لئے ایک درمیانی راہ اختیار کی جو درمیانی راہ ان معنوں میں تھی کہ روس اور امریکہ کے بیچ میں چلتی تھی مگر اسلامی انصاف کے لحاظ سے وہ درمیانی راہ نہیں تھی کیونکہ انہوں نے اپنے دائیں بھی قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور اپنے ہا ئیں بھی قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور اسلام کے نام پر ایسا کیا۔عراق کے متعلق پر فریب چالیں پس عالم اسلام کوکئی نقصانات پہنچے اور پھر ایران سے اپنا بدلہ لینے کے لئے ”صدا میت“ کو پیدا کیا گیا اور عراق کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی گئی اور تمام عرب طاقتیں جو ان کے زیر نگیں