خلیج کا بحران — Page 36
۳۶ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء اور اس کے نقصانات سے دنیا کو بچانے کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ اسے پارہ پارہ کر دو، ٹکڑے ٹکڑے کر دو اور آئندہ کے لئے اس کے اٹھنے کے امکانات کو ختم کر دو۔یہ ویسا ہی تجزیہ ہے گوا تنا ہولناک نہیں اور اتنا مجرمانہ نہیں جتنا پہلی جنگ عظیم کے بعد کیا گیا اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد کیا گیا۔دونوں صورتوں میں وہ تجزیہ ناکام رہا وہ بنیادی محرکات جو نانسی ازم کو پیدا کرتے ہیں یا نا صریت کو پیدا کرتے ہیں یا صدا میت کو پیدا کرتے ہیں۔جب تک ان محرکات پر نظر ڈال کر اس مرض کی صحیح تشخیص کر کے اس کے علاج کی طرف متوجہ نہ ہوا جائے ، بار بار وہ سراٹھتے رہیں گے اور دوسرے سروں کے کٹنے کا موجب بھی بنتے رہیں گے اور یہ پھوڑا پکتا رہے گا۔یہاں تک کہ کوئی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ جب مغرب کی طاقتور حکومتوں کے اختیار سے باہر نکل جائے۔صدام حسین کو جو طاقت دی گئی ہے یہ بھی دراصل مغربیت کی نا انصافی کا ایک مظہر ہے اور ان کے لئے بے اصول پن کا ایک مظہر ہے۔ایران میں مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اس سے پہلے مغرب ہی تھا جس نے خمینی ازم کی بنا ڈالی تھی۔فرانس وہ مغربی ملک ہے جس میں امام خمینی صاحب نے پناہ لی اور بہت لمبے عرصے تک فرانس کی حفاظت میں رہے اور فرانس کے اثر اور تائید کے نیچے وہ پراپیگنڈہ کی مہم جاری کی گئی جس نے بالآخر وہ انقلاب برپا کیا جو ابھی تک جاری ہے اور اس عرصے تک چونکہ مغرب کو یہ خطرہ تھا کہ اگر خمینی ازم او پر نہ آیا یعنی مذہبی انقلاب برپا نہ ہوا تو شاہ کی نفرت اتنی گہری ہو چکی ہے کہ لازماً اشترا کی انقلاب بر پا ہوگا۔پس خمینی ازم یا اسلام کے اس نظریے کی محبت نہیں تھی جو ایران میں پایا جاتا ہے بلکہ اس سے بڑے دشمن کا خوف تھا جس نے ان کو مجبور کیا کہ وہ خمینی ازم کی پرورش کریں اور جب وہ طاقت پا گیا تو کیونکہ وہ مذہبی لوگ تھے اور وہ جانتے تھے کہ مذہبی جذبات کے نتیجے میں ہم ابھرے ہیں، اس لئے لا زماً ان کے مفاد میں یہ بات تھی کہ مذہبی جذبات کو مشتعل رکھنے کے لئے ایک نفرت کے بدلے