خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 376

خلیج کا بحران — Page 312

۳۱۲ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ہمیشہ نیچے کے یعنی بھیک مانگنے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے پس اپنی خوبیاں تو تم نے خود غیروں کے سپرد کر دیں۔منگتے ، بھکاری بن گئے اور فخر سے اپنی قوم کے سامنے تمہارے سیاستدان یہ اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ نے اتنی بھیک منظور کرلی ہے اور امریکہ نے جو بھیک نہیں دی تھی وہ سعودی عرب نے منظور کر لی ہے۔اگر تمہاری رگوں میں بھیک کا خون دوڑ رہا ہے تو کس طرح قوموں کے سامنے سراٹھا کر چلو گے۔شعروں کی دنیا میں بسنے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔اقبال کی پرستش کی جاتی ہے جو یہ کہتا ہے: اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر مغنیاں لہک لہک کر یہ کلام دنیا کو سناتی ہیں اور مسلمان سر دھنتا ہے کہ ہاں اس رزق سے موت اچھی لیکن ہرموت سے ان کے لئے وہ رزق اچھا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے۔کوئی قربانی کی موت اپنے لئے قبول نہیں کر سکتے۔پرواز میں کوتاہی کی باتیں تو دور کی باتیں رہ گئی ہیں اب تو ہر تہ دام دانے پر لپکنے کا نام پرواز کی بلندی قرار دیا جاتا ہے۔اس سیاستدان سے بڑھ کر اور کون اچھا سیاستدان ہوگا جو کشکول ہاتھ میں لے کر امریکہ کی طرف گیا اور وہاں سے بھی مانگ لایا اور چین کی طرف گیا اور وہاں سے بھی مانگ لایا اور روس کی طرف گیا اور وہاں سے بھی مانگ لایا۔یہ اعلیٰ سیاست کی کسوٹی ہے۔اعلیٰ سیاست کو پر کھنے کے معیار ہیں۔یہ دینی سیاست تو نہیں یہ اسلامی سیاست تو نہیں۔یہ انسانی سیاست بھی نہیں۔یہ بے غیرتی کی سیاست ہے۔اور واقعہ اقبال نے سچ کہا ہے کہ اس رزق سے موت اچھی ہے جس رزق سے تمہارے ہاتھ اور پاؤں باندھے جاتے ہوں تم خود بھی ذلیل اور رسوا ہوئے اور جن قوموں نے تمہیں اپنا سر دار چنا ان سب قوموں سے تم نے بے وفائی کی ، اپنے عوام سے بے وفائی کی۔ان کو بڑی طاقتوں کا غلام بنانے کے تم ذمہ دار ہو، اے مسلمان سیاستدانوں! اور اے لیڈ رو! ہوش کرو اور توبہ کرو ورنہ کل تاریخ کی عدالتوں میں تم مجرموں کے کٹہروں میں پیش کئے جاؤ گے۔لیکن اس سے بہت بڑھ کر خدا اور محمد