خلیج کا بحران — Page 311
خودانحصاری کی ضرورت ۳۱۱ یکم مارچ ۱۹۹۱ء اقتصادی استحکام کا یہ حال ہے کہ سوائے چند تیل کے ملکوں کے جن کو تیل کی غیر معمولی دولت حاصل ہے تمام مسلمان ممالک اور تمام تیسری دنیا کے ممالک ان امیر ملکوں کے سامنے دست طلب دراز کئے بیٹھے ہیں جن کی زیادتیوں کے شکوے کئے جاتے ہیں۔جن کی غلامی کے خلاف اپنے عوام کو نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے آکر ہمیں غلام بنالیا اور ایسی قو میں ہیں کہ ان سے ہمیں بالاخر انتقام لینا ہے۔پس وہاں بھی تضادات پیدا کر دئیے جاتے ہیں۔انگریز کا نام خود سعودی عرب میں لو یا کویت میں لو تو جو انگریز کی حمایت میں بولے گا وہ واجب القتل سمجھا جاۓ گا۔امریکہ کا نام لینا گالی ہے لیکن ساری کی ساری قوم امریکنوں اور انگریزوں کے ہاتھ پر بکی ہوئی ہے اور ان کی بیعت کر چکی ہے اور کسی کو کوئی ہوش نہیں۔پس جو غریب ممالک ہیں وہ بھکاری بنادیئے گئے ہیں۔جو امیر ممالک ہیں وہ اپنی بقا کے لئے اپنے مخالفوں پر انحصار پر مجبور ہو چکے ہیں۔پس کیسی مفلسی کا عالم ہے کہ امیر ہو یا غریب ہو وہ بھکاری کے طور پر اس دنیا میں زندہ رہ سکتا ہے اور عزت اور آزادی کے ساتھ سانس نہیں لے سکتا۔پس سب سے بڑا خطرہ عالم اسلام کو اور تیسری دنیا کو ان کی نفسیاتی ذلتوں سے ہے وہ کیوں نہیں سمجھتے ، بھکاری کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔اگر تم نے اپنے لئے بھکاری کی زندگی قبول کر لی ہے تو ہمیشہ ذلیل ورسوار ہو گے۔غیر قوموں کے متعلق تو یہ کہہ سکتے ہو کہ ان کو اس کے خلاف کوئی تعلیم نہیں دی گئی پر تم قیامت کے دن خدا اور محمد مصطفی ﷺ کو کیا جواب دو گے۔کیا قرآن کی یہ آیت تمہارے خلاف گواہی نہیں دے گی کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 1) اے محمد مصطفی کے غلامو! تم دنیا کی بہترین امت تھے جو دنیا پر احسان کرنے کے لئے نکالی گئی تھی اور کیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہ نصیحت تمہارے خلاف گواہ بن کر نہیں کھڑی ہوگی کہ الید العلیا خيــر مـن اليد السفلی ( بخاری کتاب الزکاۃ حدیث نمبر : ۱۳۳۸) کہ اوپر کا ہاتھ ، عطا کرنے والا ہاتھ