خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 376

خلیج کا بحران — Page 313

۳۱۳ یکم مارچ ۱۹۹۱ء مصطفی کی عدالت میں قیامت کے دن تم مجرموں کے کٹہروں میں کھڑے کئے جاؤ گے۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ جن قوموں کو مانگنے کی عادت پڑ جائے وہ اقتصادی لحاظ سے اپنی حالت بہتر بنا ہی نہیں سکتیں۔جو ایک فرد کی نفسیات ہوتی ہے وہی قوموں کی نفسیات بھی ہوا کرتی ہے۔آپ اپنے گردو پیش خود دیکھ لیں کہ جن لوگوں کو مانگنے کی عادت ہو اور تن آسانی اور تنعم کی عادت ہو وہ ہمیشہ مانگتے ہی دکھائی دیں گے تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مانگنے والوں کو قیامت کے دن اس حال میں دیکھا کہ چمڑیاں ہڈیوں سے چپکی ہوئی تھیں اور وہ گوشت نہیں تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر تم اپنے گھر بھر نہیں سکتے۔منگتا خالی ہاتھ ہی رہتا ہے اور اسے اپنی اقتصادیات کو بنانے کا عزم ہی عطا نہیں ہوتا ، وہ ہمت ہی عطا نہیں ہوتی۔پس جب تک اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا قو میں فیصلہ نہیں کرتیں اقتصادی لحاظ سے وہ نہ ترقی کر سکتی ہیں نہ کسی قسم کا استحکام ان کو نصیب ہوسکتا ہے۔تیسری دنیا کے لئے کچھ نصائح پس صرف مسلمانوں کے لئے نہیں مشرقی دنیا کے اور افریقہ کے اور دیگر ساؤتھ امریکہ کے ممالک سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ اب جو کچھ آپ دیکھ چکے ہیں اس کے نتیجے میں خدا کے لئے ہوش کریں اور اپنی تقدیر بدلنے کا خود فیصلہ کریں۔بہت لمبازمانہ ذلتوں اور رسوائیوں کا ہو گیا ہے۔خدا کے لئے اس بھیانک خواب سے باہر آئیں جو آپ کے دشمنوں اور بڑی طاقتوں کے لئے تو نظام نو کا ایک عجیب تصور ہے مگر تیسری دنیا کے غریب ممالک کے لئے اس سے زیادہ بھیا تک خواب ہو نہیں سکتی۔پس اگر آپ نے نظام نو بنانا ہے اگر جہان نو تعمیر کرنا ہے تو اپنی خوا میں خود بنانی شروع کریں اور خود ان کی تعبیریں کریں اور خود ان تعبیروں کو عمل کی دنیا میں ڈھالنے کے سلیقے سیکھیں۔کوئی قوم دنیا میں اقتصادی ترقی کے بغیر آزاد نہیں ہو سکتی اور اقتصادی ترقی کا پہلا قدم خودی کی حفاظت میں ہے اور عزت نفس کی حفاظت میں ہے اور یہ ہرگز ممکن نہیں جب تک تیسری دنیا کے ممالک میں سادہ زندگی