خلیج کا بحران — Page 300
یکم مارچ ۱۹۹۱ء بنانے کے لئے 1928ء میں امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ اور فرانس کے وزیر اعظم نے مل کر سیکرٹری آف سٹیٹ کا نام Mr۔Frank Kellog) تھا انہوں نے یورپ میں پندرہ مغربی ممالک کی ایک کا نفرنس بلائی جس کا عنوان یہ تھا کہ جنگ کو Out Law کر دیا جائے یعنی ایسا مفرور مجرم قرار دیدیا جائے جس کے قتل کا سب کو حق ہے۔عملاً یہ اعلان تھا کہ ہم اب جنگ کو ہمیشہ کے لئے دفنا دیں گے پندرہ ملکوں کے نمائندے اکٹھے تھے جس ہال میں یہ تقریب منعقد ہوئی وہاں جب سب سے پہلے جرمن نمائندہ اپنا سنہری قلم لے کر دستخط کرنے لگا تو سارا ہال تالیوں کی گونج سے لرزنے لگا کسے خبر تھی کہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد یعنی 1928 ء کو گیارہ سال بمشکل گزریں گے کہ وہی مردہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا اور ایک ملک یا ایک وزیر اعظم کو تاخت و تاراج نہیں کرے گا بلکہ اس کی ہیبت سے مشرق سے و مغرب تک قوموں کے ایوان لرزنے لگیں گے اور بموں کے دھماکوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے گی۔پس دیکھو آنا فانا یعنی تاریخ کے نقطہ نگاہ سے چند سال آنا فانا کی بات ہوا کرتی ہے، آنا فانا کیسے مناظر بدل گئے۔خدا زندہ ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔انسانی نسلیں آتی ہیں اور گزرجایا کرتی ہیں۔اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ تم تاریخ کے ان اتفاقات پر بھروسہ رکھو میں یہ کہتا ہوں کہ تاریخ کے اس ادلنے بدلنے کے مضمون کو پیش نظر رکھو اور مایوس نہ ہو لیکن بھروسہ خدا پر رکھو جو دائی ہے اور جس پر دنیا کی کوئی طاقت غالب نہیں آسکتی۔وہ دنیا کی اور کائنات کی ہر طاقت کو مغلوب کر سکتا ہے۔اس کے ہاتھ میں ان طاقتوں کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔پس اگر تم مظلوم اور مجبور ہو اور درد سے کراہ رہے ہو تو اس درد کو دعاؤں میں خدا کے حضور پیش کرو۔میں یقین دلاتا ہوں کہ تمہاری ہر شکست اس طریق پر فتح میں تبدیل ہو جائے گی۔اتحادی طاقتوں کو مشورہ میں اتحادی فوجوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں اور اتحادی ملکوں کے سربراہوں کو بھی یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اگر آپ کو بنی نوع انسان کی بھلائی مقصود ہے۔اگر واقعی آپ دائگی امن چاہتے ہیں تو آپ کی