خلیج کا بحران — Page 301
۳۰۱ یکم مارچ ۱۹۹۱ء سیاست کے اصول تو بار بار پٹ چکے ہیں اور کبھی بھی دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اس لئے خدا کے لئے اب تو عبرت حاصل کرو اور اسلام کے سیاست کے ان اصولوں کو اپناؤ جو تقویٰ کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں۔جن کی جڑیں تقویٰ میں ہیں جو تقویٰ کے پانی سے پلتے ہیں اور تقویٰ کی طاقت سے نشونما پاتے ہیں۔اگر تم اسلام کے ان تین اصولوں کو اپنا لوجن کا میں ذکر کر چکا ہوں تو یہی ایک ذریعہ ہے کہ جس سے دنیا کو دائگی امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔اگر ایسا نہ کرو گے تو جبر واستبداد کی طاقتیں خواہ مغربی ہوں یا مشرقی ، ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے والا امریکہ ہو یا انڈونیشیا میں بربریت کی نئی حیرت انگیز مثالیں اور نہایت دردناک مثالیں قائم کرنے والا جاپان ہو، میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر ان کی نیتیں وہی رہیں جو ہمیشہ سے سیاستدانوں کی نیتیں چلی آئی ہیں اور اخلاق کی بجائے خود غرضی پر ان کی بنا ہوئی تو کبھی دنیا کو امن عطا نہیں کر سکتے۔دنیا کی طاقتور قوموں کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنی نیتوں کے جنگلوں میں چھپے ہوئے بھیٹریوں کو ہلاک کریں۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو صدام کی ایلیٹ فورس کو تباہ کرنے سے دنیا میں امن کی ضمانت نہیں ہوسکتی ،تمام عراق کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں تب بھی دنیا میں امن کی کوئی ضمانت نہیں ہو سکتی۔انسان کو ہلاک کرنے کے لئے اس کی نیتوں میں بھیڑیے چھپے ہوئے ہیں۔جب تک نیتوں میں پوشیدہ بھیڑیوں کو انسان ہلاک نہیں کرتا اور عدل پر قائم ہونے کے عہد نہیں کرتا اس وقت تک دنیا کو ہرگز امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔مسلمان ممالک اسلام کا نظام عدل رائج کریں لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم سوال اٹھتا ہے کہ جب تک قرآن کا پیش کردہ نظام عدل اسلامی دنیا خود قبول نہ کرے اور اپنے اپنے ملکوں میں اسلام کا نظام عدل جاری کر کے نہ دکھائے اور اپنے نظریات کو عادلانہ نہ بنائے اس وقت تک وہ دنیا کو کیسے اسلام کے عدل کی طرف بلاسکتی ہے۔یہ ناممکن ہے جب تک عالم اسلام خود عدل پر قائم نہیں ہوتا یعنی قرآن کے تصور عدل پر قائم نہیں ہوتا،