خلیج کا بحران — Page 299
سمجھانا چاہتا ہوں کہ ۲۹۹ یکم مارچ ۱۹۹۱ء اول تو یہ کہ جب خود خدا کے بندے تو حید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں کو اپنانے کی بجائے دشمنوں کے ناپاک اصولوں کو اپنالیں تو خدا نہ ادھر رہتا ہے نہ ادھر رہتا ہے اور یہ حق و باطل کی جنگ نہیں رہتی۔دوسرے یہ کہ جہاں تک دنیا وی جنگوں کا تعلق بھی ہے اس شکست کے ساتھ وقت ٹھہر تو نہیں گیا۔تاریخ تو جاری وساری ہے ابھی چند دن گزرے ہیں۔تاریخ اپنے رخ اولتی بدلتی رہتی ہے۔وقت پلٹ جاتے ہیں اور آج کچھ ہے تو کل کچھ ہو جاتا ہے۔بعض قوموں نے سینکڑوں سال تک جبر واستبداد کی حالت میں زندگی گزاری اور پھر خدا نے ان کو اپنے دشمنوں پر فتح عطا فرمائی۔پس خدا کے وقت کے مطابق سوچ پیدا کریں۔اپنے وقت کے مطابق عجلت سے کام نہ لیں۔دنیا کی تاریخ ایک جاری وساری سلسلہ ہے جو ہمیشہ ایک حال پر قائم نہیں رہا کرتا۔آپ کے دل کی تسلی کے لئے میں آپ کو تاریخ میں کچھ پیچھے لے جاتا ہوں 1919ء میں جو کچھ یورپ میں ہور ہا تھا اس کی یاد آپ کو دلاتا ہوں یہ وہ سال ہے جبکہ جیتی ہوئی اتحادی طاقتیں جرمنوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے ورسائے Versalles میں اکٹھی ہوئی تھیں وہ سال انگلستان کے الیکشن کا سال بھی تھا۔لائیڈ جارج وزیر اعظم نے یہاں سے روانہ ہونے سے پہلے یہ بیان دیا کہ میں جرمن لیموں Lemon کو اس سختی سے نچوڑوں گا کہ اس کے بیجوں سے چر چرانے کی آواز آئے اور ہائے ہائے کی صدائیں اٹھنے لگیں۔اس ارادے کے ساتھ یہ ورسائے کے لئے روانہ ہوئے۔مبصر لکھتا ہے کہ ورسائے پہنچ کر جب انہوں نے فرانسیسی نمائندوں کے انتظامی ارادوں پر اطلاع پائی تو وہ سمجھے کہ میرے ارادے تو ان کے مقابل پر بخشش اور حلم کا نمونہ تھے۔فرانسیسی نمائندوں میں ایسی خوفناک انتقامی کارروائیوں کے جذبات تھے کہ گویا ہر جرمن کو ملیا میٹ کرنے کا فیصلہ تھا۔بہر حال آپس میں افہام و تفہیم کے ذریعے کچھ ایسے فیصلے کئے گئے جن کے نتیجے میں اس بات کو لازمی بنادیا گیا کہ آئندہ کبھی جرمن قوم کسی اور قوم کے خلاف ہتھیار نہ اٹھا سکے۔وہی تصویر ہے جو آج عراق کی صورت میں ان کے ارادوں کی شکل میں آپ کو دکھائی دیتی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد اس بات کو مزید یقینی