خلیج کا بحران — Page 298
۲۹۸ یکم مارچ ۱۹۹۱ء دیہات پر بمباری کی چنانچہ اس بمباری کا ایسا اثر اس زمانے کے ان لڑنے والوں پر بھی پڑا جن کے ذریعے بمباری کی جارہی تھی۔ایسا اثر پڑا کہ ایک برطانوی ایر فورس کے بہت بڑے افسر نے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دے دیا (1922ء کی بات ہے ) کہ یہ ظلم میں برداشت نہیں کر سکتا ایسا خوفناک ظلم تو ڑا جارہا ہے کر دوں پر کہ میری حد برداشت سے باہر ہے۔پھر یہ کہا جاتا ہے کہ ایران میں بھی صدر صدام نے انہی جرائم کا ارتکاب کیا اور کثرت کے ساتھ ایرانیوں کو گیس کا عذاب دے کر مارا اور ان کی شہری آبادیوں پر بمباری کی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس دور میں بھی گیس بنانے کے سامان مغرب نے ان کو مہیا کئے اور دور مار تو ہیں بھی مغرب نے مہیا کیں اور سب سے زیادہ مالی امداد کرنے والے سعودی عرب اور کویتی تھے اور امریکہ مسلسل ان کی حمایت میں کھڑا رہا ہے۔پس یہ درست ہے کہ صدام نے انسانیت کے خلاف جو جرائم کئے ہیں وہ ان کے لئے جواب دہ ہے مگر یہ درست نہیں کہ صرف صدام ہی نے جو جرائم کئے ہیں اور بھی بہت سے جرم کرنے والے ہیں اور وہ اتحادی جو اس وقت پاک باز اور معصوم بنا کر پیش کئے جارہے ہیں ان کے اندر بڑے بڑے ظالم اور سفاک موجود ہیں جنہوں نے ہمیشہ جب ان کو ضرورت پیش آئی جرم کی حمایت کی اور سفا کی کا دل بڑھایا۔پس یہ جنگ سچ اور جھوٹ کی جنگ نہیں ہے۔مسلمانوں کی دل شکستگی کا علاج مسلمان نوجوان خصوصیت سے سخت دل شکستہ ہیں اور جو اطلاعیں مجھے دنیا سے مل رہی ہیں بعض نوجوان بچوں اور عورتوں ، لڑکیوں وغیرہ کا یہ حال ہے کہ ان فلموں کو دیکھ دیکھ کر جو عراق پر توڑے جارہے ہیں رو رو کر انہوں نے اپنی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔خود انگلستان میں ہی بعض بچے اور بعض بچیاں مجھے ملنے آئے۔درد کی شدت سے ان سے بات نہیں ہوتی تھی۔بات کرتے کرتے ہچکیاں بندھ گئیں کہ ہمیں بتائیں یہ کیا ہورہا ہے۔کیوں ہمارا خدا ان کی مددکو نہیں آرہا؟ ان کو میں