خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 376

خلیج کا بحران — Page 297

۲۹۷ یکم مارچ ۱۹۹۱ء عباد الصلحین پیدا نہیں ہوتے اور قرآن کریم کے پاکیزہ ہمیشہ زندہ رہنے والے، ہمیشہ غالب آنے والے اصولوں پر عمل نہیں کرتے اس وقت تک ان کے مقدر میں کوئی دنیاوی فتح بھی نہیں لکھی جائے گی۔پس مسلمانوں کے دلوں پر جو ظلم پر ظلم کی آری چلائی جارہی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ گویا حق اتحادیوں کے ساتھ تھا اور حق کو جھوٹ اور باطل پر فتح ہوئی ہے یہ ہرگز درست نہیں۔یہ حق اور باطل کی جنگ نہیں اس ضمن میں ایک اور بات آپ کے علم میں آنی چاہئے کہ ایک امریکن جرنیل بار بار یہ کہتے رہے کہ ہم سارے سفید ٹوپیوں والے ہیں اور عراق اور عراق کے ساتھی سارے کالی ٹوپیوں والے ہیں۔مغربی ناولوں کا ایک جاہلانہ تصور ہے کہ جو ان کے لڑا کا پستول کے اچھے ماہر ہوں وہ سفید ٹوپیاں پہنا کرتے ہیں اور جو بد معاش ان کے مقابل پر ہوں جن پر وہ غالب آتے ہوں وہ کالی ٹوپیاں پہنتے ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ یہ سفید اور کالے کی جنگ نہیں تھی۔اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین اتنا ظالم اور سفاک ہے کہ اس نے کردوں کو گیس کا عذاب دے کر مارا اور پھر کر دوں کے گاؤں کے گاؤں بمباری کے ذریعے ملیا میٹ کر دئیے۔اگر یہ بات درست ہے اور غالباً درست ہے تو ایک ایسا بھیانک جرم ہے جس کے لئے جو ظلم کرنے والا ہے وہ خدا کے حضور جواب دہ ہوگا اور تاریخ کے سامنے بھی جواب دہ ہوگا مگر یہ ساری تصویر نہیں ہے دیکھنا یہ ہے کہ جرم صدام حسین کو کن قوموں نے سکھایا تھا اور کیسے سکھایا تھا۔1920ء کی بات ہے کہ انگریزوں کی یہ پالیسی تھی کہ کردوں کوعراقیوں کا غلام بنا دیا جائے جب کر دوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو 1920ء میں سب سے پہلے برطانیہ کی حکومت نے نہتے اور کمزور کر دوں پر گیس کے بم برسائے اور نہایت دردناک طریق پر ہزار ہا کا قتل عام کیا۔اس کے بعد مسلسل انگریزوں نے کردوں کو عراق کا غلام بنانے کی خاطر سالہا سال تک ان غریبوں کے