خلیج کا بحران — Page 296
اسلامی دنیا کا سب سے بڑا المیہ ۲۹۶ یکم مارچ ۱۹۹۱ء آج کی اسلامی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خدا اور دین محمد کے نام پر جہاد کا اعلان کرتے ہیں لیکن سیاست کی تینوں شرائط لادینی سیاست سے اخذ کر لی ہیں اور قرآن کریم کی اس غالب سیاست کو چھوڑ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس دور میں اب تک جتنی دفعہ مسلمان اپنے اور اسلام کے دشمنوں سے ٹکرائے ہیں الا ماشاء اللہ معمولی اتفاق کے سوا ہر دفعہ نہایت ہی ذلت ناک اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالی کا یہ کھلا کھلا بلکہ اٹل وعدہ تھا کہ اِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ (الحج: ٢٠) که خبر دار! میری خاطر ، میرے نام پر جہاد کے لئے نکلنے والوسنو ! تم کمزور ہومگر میں کمزور نہیں ہوں۔میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اور یہ وعدہ اٹل ہے اِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِیر ان کمزور اور دنیا کی نظر میں نہایت حقیر لوگوں کو جو خدا کی خاطر جہاد پر نکلے ہیں ضرور خدا کی نصرت عطا ہوگی اور ان کو اپنے غیروں پر غالب کیا جائے گا۔یہ سوال آج مسلمان ذہن کو جھنجوڑ رہا ہے اور اسی لئے میں نے اس کو بہت اہمیت دی تا کہ مشرق سے مغرب تک کے دکھے ہوئے مسلمان دلوں کو سمجھاؤں کہ یہ شکست اسلام کی شکست نہیں ہے بلکہ یہ شکست ان مسلمانوں کی ہے جنہوں نے اسلام کے اصولوں کو ترک کر کے شکست خوردہ اصولوں کو اپنالیا۔پس یہ جنگ حق اور باطل کی جنگ نہیں رہی یہ طاقت اور کمزوری کی جنگ بن گئی۔نہ خدا اس طرف رہا نہ خدا اس طرف رہا اور جب طاقت اور کمزوری کی جنگ بن جائے تو طاقت لازماً جیتی ہے اور اسی کا مطلب ہے "Might is Right"۔پس خلیج کی جنگ کے اس دردناک واقعہ میں ہمارے لئے بہت گہرے سبق ہیں اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اعلیٰ پائیدار اور نا قابل تسخیر اصولوں کی طرف لازماً لوٹنا ہوگا۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے حق میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوگا کہ ارض کے اوپر خدا کے پاک بندوں کی حکومت لکھی جاچکی ہے۔الارض یعنی فلسطین کی زمین ہو یا ساری دنیا مراد ہو جب تک