خلیج کا بحران — Page 295
۲۹۵ یکم مارچ ۱۹۹۱ء طاقت کے زور سے ضرور حاصل کرو۔کیونکہ "Might is Right" طاقت ہی صداقت ہے اس کے سواد نیا میں صداقت کی اور کوئی تعریف نہیں۔قرآن کریم اس کے برعکس ایک مختلف اصول پیش فرماتا ہے جو یہ ہے لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ (الانفال :۴۳) یعنی وہی ہلاک کیا جائے جس کی ہلاکت پر کھلی کھلی صداقت گواہ ہو اور وہی زندہ رکھا جائے جس کے حق میں کھلی کھلی صداقت گواہی دے۔پس اسلام کا اصول Might is Right کے برعکس Right is might بنتا ہے۔تیسرا اصول جو لا دینی سیاست کا بنیادی حصہ ہے وہ یہ ہے کہ مقصد کے حصول کے لئے بے دریغ جھوٹا پروپیگنڈا کرو۔یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ جتنا زیادہ فریب اور مطمع کاری سے کام لیا جائے اتناہی زیادہ بہتر اور قوم کے مفاد میں ہے۔پس دشمن کو صرف میدان جنگ میں شکست نہ دو بلکہ جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے اس کو نظریات اور اصولوں کی دنیا میں شکست خوردہ بنا کے دکھاؤ۔ازل سے جب سے سیاست کا تاریخ میں ذکر ملتا ہے یہی تینوں اصول ہمیشہ ہر جگہ کارفرما دکھائی دیں گے سوائے ان استثنائی ادوار کے جب سیاست بعض شرفاء کے ہاتھ میں چلی گئی ہو جو دینی اور اخلاقی اقدار کی قدر کرتے ہوں۔یا جب مذہب کی دنیا میں خدا تعالیٰ نے دنیاوی طاقت بھی عطا کر دی ہو۔قرآن کریم اس اصول کے بالکل بر عکس یہ اصول پیش فرماتا ہے : فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ : مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الرُّورِ (الحج: ۳۱) پھر دوسری جگہ فرمایا: وَإِذَا قُلْتُهُ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبى (الانعام : ۱۵۳) لفظوں کی لڑائی میں بھی لفظوں کے جہاد میں بھی تمہیں سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔سچائی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ نا اور جھوٹ کو قبول کرنا، یہ شرک کی طرح نا پاک اور نجس ہے۔فرمایاوَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا بات بھی کرو تو عدل کے ساتھ کرو لَوْ كَانَ ذَا قُر بی خواہ تمہاری بات کا نقصان تمہارے قریبی کو پہنچتا ہو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو۔