خلیج کا بحران — Page 294
۲۹۴ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ایک اردو شاعر نے بہت اچھی بات کہی جب یہ کہا کہ اک ذراسی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے مگر مغربی دنیا کے عرب دوستوں کے متعلق حسرت سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ذرا سی بات تو در کنار۔عالم اسلام پر قیامت بھی ٹوٹ پڑے تو ان کے برسوں کے یارانے نہیں جاتے اور ان سے دوست پہچانے نہیں جاتے۔یہ ہے خلاصہ اس پس منظر کا جس کی روشنی میں میں آپ کے سامنے کچھ دوسرے امور رکھنا چاہتا ہوں جن کا زیادہ تر تعلق مختلف قوموں کو مشورے دینے سے ہے۔لا دین سیاست کے تین بنیادی اصول قدیم سے لا مذہب سیاست کے تین اصول رہے ہیں جو مشرق اور مغرب میں برابر ہیں، ہمشترک ہیں۔یہ نہیں کہہ سکتے یہ مغربی سیاست کے اصول ہیں یا مشرقی سیاست کے اصول ہیں۔کل کے ہیں یا آج کے۔ہمیشہ سے یہی اصول چلے آرہے ہیں یعنی سیاست اگر لا مذہب اور بے دین ہو تو پہلا اصول یہ ہے کہ قوم، وطن یا گروہ کا مفاد جب بھی عدل کے مفاد سے ٹکرائے تو قوم، گروہ اور وطن کے مفاد کو عدل کے مفاد پر لا ز ما ترجیح دو اور فوقیت دو۔خواہ عدل کو اس کے نتیجے میں پارہ پارہ کرنا پڑے۔قرآن کریم کا اصول سیاست اس سے بالکل مختلف ہے اور برعکس ہے جو یہ ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدہ:۹) کہ اے مسلمانو! تمہاری سیاست اور طرح کی سیاست ہے یہ الہی فرمان کے تابع سیاست ہے اور اس کا بنیادی اہل اصول یہ ہے کہ کسی قوم کی شدید دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اس سے نا انصافی کا سلوک کرو۔ہمیشہ عدل پر قائم رہو کیونکہ عدل تقویٰ کے قریب تر ہے۔دوسرا اصول سیاست یعنی بے دین سیاست کا اصول یہ ہے کہ اگر طاقت ہو تو مفادات کو