خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 376

خلیج کا بحران — Page 286

ارض بغداد اور کھوپڑیوں کے مینار ۲۸۶ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء آخر پر میں آپ کو عراق کی سرزمین سے متعلق یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بڑی مظلوم سرزمین ہے اور بڑے بڑے سفا کا نہ خوفناک ڈرامے اس سرزمین پر کھیلے گئے ہیں۔میں نے سوچا کہ اس سرزمین کو کیا نام دیا جائے تو مجھے خیال آیا کہ اسے موت اور کھوپڑیوں کے میناروں کی سرزمین کہا جاسکتا ہے۔تاریخ میں سب سے پہلے اسیر یوں Assyrians نے عراقی علاقے پر قابض ہو کر اتنے مظالم اس علاقے میں بسنے والی قوموں پر کئے تھے کہ 200 سال تک ان مظالم سے یہ سارا علاقہ کانپتا رہا اور سسکتا رہا۔879 ( قبل مسیح) میں، اسیرین کے دور استبداد کے آغاز میں وہاں کے فاتح بادشاہ نے اپنے محل کے سامنے ایک مینار تعمیر کیا، اس مینار پر یہ عبارت کندہ تھی کہ میں کھا لیں کھنچوانے والا بادشاہ ہوں جس شخص نے مجھ سے ٹکر لی ہے میں نے اس کی کھال کھنچوا دی اور یہ مینار جوتم دیکھ رہے ہو اس پر ساری انسانی کھا لیں منڈھی ہوئی ہیں اور اس مینار کی چوٹی پر تم جو پنجر دیکھ رہے ہو نیزے پر گڑھا ہوا وہ بھی انسانی پنجر ہے اور اس مینار کے اندر بھی انسان زندہ چنے گئے تھے پس میں وہ بادشاہ ہوں جو کھالیں کھنچوانے والا اور ہلاکت کا بادشاہ ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دعوی تھا کہ میں یہ سب کچھ نیکی کی خاطر کر رہا ہوں اور دراصل اسیر نیز Assyrians کی جنگ نیکی اور بدی کی جنگ ہے ہم نیکیوں کے نمائندہ ہیں اور باقی سب دنیا بدیوں کی نمائندہ ہے۔میں نہیں جانتا صدر بش نے اس تاریخ کا مطالعہ کیا ہے یا نہیں لیکن عراق میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ویساہی ایک تمثیلی مینار بنانے کی باتیں سوچ رہے ہیں جس پر یہی عبارت کندہ ہوگی کہ ہم سرتوڑنے والے ، خودیوں کو برباد کر دینے والے عزت نفس کو مٹاڈالنے والے اور پاؤں تلے روندنے والے بادشاہ ہیں جس شخص نے ہمارے خلاف کوئی آواز بلند کی اور سر اٹھانے کی جرات کی ہم اس کی کمر توڑیں گے اور ان کی کھوپڑیوں سے ویسا ہی مینار بلند کریں گے جیسے عراق کی تاریخ میں اس سے پہلے بلند ہوتے رہے ہیں۔