خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 376

خلیج کا بحران — Page 287

۲۸۷ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اس کے بعد دوسرا مینار جو عراق میں بنایا گیا وہ 1258ء میں ہلاکو خان نے کھوپڑیوں سے بنایا اور پھر تیسرا مینار 1401ء میں تیمور لنگ نے بغداد میں کھڑا کیا اور وہ بھی واقعہ انسانی کھوپڑیوں سے بنایا گیا تھا۔جدید انسانی تاریخ کا انتہائی نازک وقت پس یہ کیسی مظلوم سرزمین ہے جہاں ایک دفعہ نہیں ، دودفعہ نہیں ، اس سے بھی پہلے تین دفعہ انسانی لاشوں اور جلدوں اور کھوپڑیوں سے مینار تعمیر کئے گئے ہیں تا کہ کسی جابر کے سامنے دنیا کو سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔پس آج جو کچھ عراق میں ہو رہا ہے یہ انہیں باتوں کا اعادہ ہے میں نہیں جانتا کہ آئندہ کیا ہوگا۔میں نہیں جانتا کہ خدا کی تقدیر کب ان کے تکبر کا سر توڑنے کا فیصلہ کرے گی لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ لازماً خدا کی تقدیر اس تکبر کا سر توڑے گی لیکن یہ بات میں امریکہ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ کمر جو تمہاری ویتنام میں تو ڑ دی گئی تھی ، عراق کے مظالم کے نتیجے میں یہ کمر اب جڑ نہیں سکتی۔بظاہر تم نے وہاں بھی کھوپڑیوں کا ایک مینار بلند کرنے کی کوشش کی تھی مگر 25 لاکھ ٹن بارود سے جتنی زمین کھودی جاسکتی ہے۔جتنے گہرے کنویں کھودے جا سکتے ہیں اتنے گہرے قعر مذلت میں ہمیشہ کے لئے تمہارا نام دفن ہو چکا۔آئندہ تاریخ میں یہ باتیں زیادہ اجاگر ہوتی چلی جائیں گی۔یہ مظالم کے داغ جو تمہارے چہرے پر لگے ہیں آج تمہارے رعب کی وجہ سے اور تمہارے ظلم وستم کے دبدبے کے نتیجے میں یہ نمایاں کر کے دنیا کو دکھانے کے لئے کسی کے پاس طاقت ہو یا نہ ہو مگر تاریخ بالآخر وقت کے ساتھ ساتھ ان کو زیادہ نمایاں کرتی چلی جائیگی۔یہ سیاہیاں زیادہ گہری ہوتی چلی جائیں گی۔پس دوسری نظر سے بھی تو اپنے آپ کو دیکھو باہر تمہاری کیا تصویر بن رہی ہیں اور آئندہ تمہاری کیا تصویریں بننے والی ہیں اور جن مقاصد کو لیکر تم اُٹھے ہو اُن کے بالکل برعکس کارروائیاں کررہے ہو۔امن کی بجائے ہمیشہ کے لئے دنیا کو جنگ میں جھونکنے کے فیصلے کر چکے ہو۔لیکن اگر امریکہ ان باتوں کو سمجھنے پر آمادہ نہیں جیسا کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔اس وقت