خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 376

خلیج کا بحران — Page 285

۲۸۵ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء پر ایک اور بات کا خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ایک ایسی جنگ کی مثال قائم کی گئی ہے جس کی کوئی نظیر ساری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔یعنی کرائے کی جنگوں کی باتیں تو آپ نے سنی ہوں گی مگر اتنی وسیع پیمانے پر ، اتنی خوفناک کرائے کی جنگ کبھی دنیا کی تاریخ میں نہیں لڑی گئی۔ویٹنام کی جنگ میں امریکہ کے کردار کا کم سے کم ایک اچھا پہلو یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے کشکول لے کر نہیں گیا تھا کہ ہمیں اس جنگ کے پیسے دو ایک سو بیس بلین ساڑھے آٹھ سال تک ظلم برسانے کا خرچ امریکہ نے خود برداشت کیا ہے۔120 بلین بہت بڑی رقم ہے لیکن موجودہ جنگ ساری کی ساری مانگے کے پیسوں سے لڑی جارہی ہے۔اب ایسی جنگ کی مثال اگر اس دنیا میں قائم کر دی جائے کہ تم کسی سے پیسے لے کر لڑو۔دنیا کے امن کی پھر کیا ضمانت باقی رہے گی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ غریب قوموں کا امن امیر قوموں کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا اور جب چاہیں جہاں چاہیں دنیا کی امیر قومیں کرائے کے ٹولے کر، کرائے کے سپاہی لے کر غریب قوموں پر مظالم ڈھاتی رہیں۔یہ پیغام ہے جو دنیا کو دیا جا رہا ہے اور مزید ایک اور ایسی حرص اس جنگ کے ساتھ شامل ہے کہ اس کے نتیجے جب رفتہ رفتہ ظاہر ہوں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ کس طرح یورپ کی دوسری قوموں میں بھی اس سے تحریک پیدا ہوگی کہ اگر جنگ کا یہی مطلب ہے تو کیوں نہ ہم بھی ہاتھ رنگ لیں۔عراق اور کویت پر اس جنگ میں جو تمام تباہی وارد کی گئی ہے اس کے پیسے انہوں نے وصول کئے ہیں اور اس تباہی کے نتیجے میں نقصان پورا کرنے کے اس سے کئی گنا زیادہ پیسے ان سے وصول کریں گے۔پس ہلاک کرنے کے بھی پیسے اور دوبارہ زندہ کرنے کے بھی پیسے اور دوبارہ زندہ کرنے کے پیسے ہلاک کرنے کے پیسوں سے بہت زیادہ کرائے کے قاتل کو کم دیا جاتا ہے لیکن سرجن کو زیادہ دیا جاتا ہے تو یہ دونوں کردار انہوں نے اپنی ذات میں اکٹھے کرلئے ہیں یہ ہے دنیا کا سب سے بڑا خطرہ آج کے بعد ایک نیا انداز فکر پیدا ہوا ہے اور بڑھتا چلا جائے گا اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی۔کسی غریب قوم کو مروانے کے لئے کسی امیر قوم نے پیسے دیئے تو مروایا جائے گا اور پھر بعد میں اس قوم کی تعمیر نو کے لئے بھی اسی کو جرمانے ڈالے جائیں گے اور دونوں کے فائدے ان کو پہنچیں گے۔