خلیج کا بحران — Page 211
۲۱۱ ۸ فروری ۱۹۹۱ء بخودمینڈیٹ ختم ہو جانا چاہئے۔لیکن اس کی بجائے ان کومزید کوٹہ عطا کیا گیا اور 46ء میں یہ کوٹہ بڑھا کر ایک لا کھ کر دیا گیا۔1948ء میں جب یہ مینڈیٹ ختم ہوا تو یہود کی آبادی (85,000) پچاسی ہزار سے بڑھ کر ، ہاں مینڈیٹ کے آغاز سے بھی پہلے یعنی 1919ء میں (مینڈیٹ تو 1922ء کا ہے۔) اس وقت کی آبادی 85 ہزار بیان کی جاتی تھی ، اس میں بہت سے اختلافات ہیں بہت لمبی چھان بین کرنی پڑی لیکن غالباً پچاسی ہزار کی آبادی درست ہے۔اور ۱۹۴۷ء تک جب یونائیٹڈ نیشنز Nations United نے مینڈیٹ کے ختم ہونے کے قریب آکر یہ اعلان کیا کہ فلسطین کی پارٹیشن کر دی جائے، تقسیم کر دی جائے اور ایک یہودی سٹیٹ قائم کر دی جائے اور ایک مسلمان عرب سٹیٹ قائم کر دی جائے۔اس وقت تک یہ آبادی بڑھ کر سات لاکھ ہو چکی تھی اور بعض اعداد و شمار کے مطابق اس وقت عربوں کی کل آبادی ہیں لاکھ تھی۔پس نسبت ایک اور تین کی تھی۔سات لاکھ ہونا نہیں چاہئے تھا اگر مینڈیٹس کو دیکھا جائے تو اتنی آبادی ہو ہی نہیں سکتی۔مزید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بہت بھاری تعداد میں یہود وہاں سمگل کئے جاتے تھے اور برٹش حکومت کی بعض موقعوں پر جائز کوششوں کے باوجود کہ یہ سلسلہ بند ہو، یہ سلسلہ جاری رہا اور جب بھی برٹش حکومت نے اس کو روکنے کی کوشش کی ،ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور انتقامی کارروائی یہود کی طرف سے کئی گئی بہر حال نسبت سات اور بیس کی بیان کی جاتی ہے۔جس پر یونائیٹڈ نیشنز یہ فیصلہ کرنے بیٹھی کہ تقسیم کے نتیجے میں کتنا علاقہ یہود کو دیا جائے اور کتنا مسلمانوں کو۔فیصلہ یہ کیا گیا کہ %56 رقبہ فلسطین کا یہود کے سپرد کر دیا جائے باقی %44 میں سے جو علاقہ یروشلم کا ہے وہ بین الاقوامی نگرانی میں رہے کیونکہ مقامات مقدسہ ہیں جن کا تعلق یہود سے بھی ہے ، عیسائیوں سے بھی ہے اور مسلمانوں سے بھی اور باقی جو بچا کھچا رقبہ تھا وہ عرب مسلمانوں کے سپردنہیں کیا گیا۔عرب مسلمانوں کو دینا تھا اس فیصلے میں یہ قطعی طور پر اعلان کیا گیا کہ دونوں علاقوں میں دونوں کی با قاعدہ حکومت قائم کروانے کے سلسلے میں برٹش گورنمنٹ یونائیٹڈ نیشنز سے تعاون کرے۔اور ان کی قائم کردہ نمائندہ کمیٹی اس کام کو انگریزی حکومت کے تعاون سے پائیہ تکمیل تک پہنچائے۔عملاً یہ ہوا کہ