خلیج کا بحران — Page 212
۲۱۲ ۸ فروری ۱۹۹۱ء انگریزی حکومت نے تعاون کرنے سے کلیہ انکار کر دیا جس کے نتیجے میں جہاں تک مسلمان تھے ان کو منظم کرنے والا کوئی نہیں تھا ان میں بے چینی تھی۔افراتفری تھی اور کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو با قاعدہ ان کی وہاں حکومت بنواتا اور جہاں تک یہود کا تعلق ہے یہاں دو قسم کے ادارے قائم ہوئے ایک تو Menachem Begin کی قیادت میں 48ء سے پہلے سے ہی بہت مضبوط Terrorist Organisation قائم کر دی گئی تھی جو انگریزوں کے خلاف بھی Terror استعمال کر رہی تھی اور عربوں کے خلاف بھی Terror استعمال کر رہی تھی اور دوسرے ڈیوڈ مینگورین David Ben) (Gurion کی قیادت میں امریکہ سے کثرت سے اسلحہ یہود کومہیا کیا جارہا تھا اور یہاں تین چار قسم کی Organisations قائم کر دی گئی تھیں جو منظم طریق پر نہ صرف اپنے علاقے کا دفاع کریں اور یہاں حکومت قائم کریں بلکہ اور بھی کچھ علاقہ عربوں سے ہتھیا لیں۔چنانچہ یہ جو 1948ء سے 1949 ء تک کا ڈیڑھ سال کے قریب کا عرصہ ہے اس عرصے میں عربوں اور یہود کی جھڑپ ہوتی رہی ، اس میں اردگرد کی عرب ریاستوں نے بھی حصہ لیا اور غیر رسمی جنگوں کا آغاز ہوا یعنی با قاعدہ حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز نہیں ہوا بلکہ وہ عربوں کی مدد کرتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد جب 1949ء میں سیز فائر ہوا ہے یعنی آپس میں Truce ہوئی اور صلح قائم کروائی گئی تو %56 سے بڑھ کر یہود کے قبضہ میں %75 علاقہ جاچکا تھا۔یہ تو ہے یونائیٹڈ نیشنز کا کردار اور انگلستان کا کردار اور امریکہ کا کردار۔یہ بہت بڑی تفصیلات ہیں جن کے سب حوالے میرے پاس ہیں لیکن میں اپنے خطبوں کو اسی بحث میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا اور الجھانا نہیں چاہتا۔خلاصہ یہی ہے کہ عالمی سازش کے نتیجے میں جس میں لیگ آف نیشنز نے اور یونائیٹڈ نیشنز نے بھر پور حصہ لیا اور سب سے اہم کردار انگلستان نے اور امریکہ نے ادا کیا یہود کی ایک ایسی ریاست فلسطین میں قائم کر دی گئی جو انصاف کی کسوٹی پر کسی پہلو سے بھی قائم نہیں کی جاسکتی تھی بین الاقوامی قوانین کی رو سے بین الاقوامی یونائیٹڈ نیشنز کی روایات اور چارٹر کے نتیجے میں اس کا پہلا قدم ہی نہیں اٹھایا جاسکتا تھا مگر اٹھایا گیا اور اس کے بعد پھر جنگوں کا آغاز شروع ہوتا ہے۔