خلیج کا بحران — Page 210
۲۱۰ ۸ فروری ۱۹۹۱ء خط لکھا کہ ہماری کیبنٹ تم سے یہ وعدہ کرتی ہے، یہ سوچ رہی ہے۔اس کو لیگ آف نیشنز کا حصہ بنالے اور لیگ آف نیشنز کو یہ اختیار کس نے دیا تھا کہ وہ دنیا کی قسمت بانٹتی پھرے اور جس قوم نے وہ وعدہ کیا تھا ان کے سپر د ہی اس علاقے کی نگرانی کر دی کہ اب جس طرح چاہو اس کو نافذ العمل کرو اس پر عمل کرواؤ۔ساتھ ہی ایک لاکھ یہود کو باہر سے لا کر آباد کرنے کا Mandate بھی دیا چنانچہ اس پر عمل شروع ہوا اور ۷ ارمئی ۱۹۳۹ء کو اگلی جنگ سے پہلے انگریزوں نے ایک White Paper شائع کیا۔اس وقت تک ایک لاکھ کی بجائے اس سے بہت زیادہ یہودی اس علاقے میں آباد ہو چکے تھے۔۱۹۳۹ء کے White Paper کی رو سے انگریزوں نے اپنی سابقہ پالیسی میں ایک تبدیلی پیدا کر لی اور اس وقت Chember Lane کی حکومت تھی۔چیمبر لین نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اب جب کہ ہم دوسری جنگ کے کنارے پر کھڑے ہیں اگر ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ یہود کے خلاف فیصلہ کر کے ان کو دشمن بنا ئیں یا عربوں کے خلاف فیصلہ کر کے ان کو دشمن بنا ئیں تو میری رائے یہ ہے کہ ہمیں یہود کے خلاف فیصلہ کرنا چاہئے ، عربوں کے خلاف نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جنگ عظیم ثانی سر پہ کھڑی تھی پہلا فیصلہ پہلی جنگ کے بعد کا ہے۔دوسرا فیصلہ دوسری جنگ سے پہلے کا ہے اور یہ فیصلہ سیاست پر مبنی تھا حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔ہاں اس وائٹ پیپر (White Paper) میں با قاعدہ یہ اعلان کیا کہ انگریزی حکومت فلسطین میں یہودی حکومت قائم کرنے کے حق میں نہیں ہے اور ہم یہود کا یہ حق تسلیم نہیں کرتے کہ وہ فلسطین میں اپنی حکومت بنا ئیں۔ساتھ ہی پچھتر ہزار (75,000) مزید یہودیوں کو باہر سے لا کر وہاں آباد کرنے کی اجازت دی گئی ایک لاکھ پر بات شروع ہوئی تھی جو 75,000 پرر کی۔اس وقت اگر یہ دیانتدار تھے اپنے فیصلے میں تو League of Nations کو یہ مینڈیٹ واپس کر دینا چاہئے تھا کہ ہمارے فیصلے کے مطابق ۱۹۱۷ ء والے فیصلے کے مطابق اگر تم نے ہمیں مختار بنایا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کروائیں تو اب حکومت اس فیصلے کے خلاف ہے اس لئے خود