خلیج کا بحران — Page 209
۲۰۹ ۸ فروری ۱۹۹۱ء تشخيص۔اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد پھر وہ Solution یا حل خود بخود ظاہر ہو جاتا ہے۔دراصل یہ مرض کی ما ہے جوسب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔اگر تشخیص درست ہو تو علاج تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔پس یہود کو بھی مشورہ دوں گا، عیسائی قوموں کو بھی مشورہ دوں گا، مسلمانوں کو بھی مشورہ دوں گا اور تمام بنی نوع انسان کو بھی مشورہ دوں گا کہ آئندہ ان کو دائمی امن کی تلاش کے لئے کس قسم کی منصفانہ کا روائیاں کرنی چاہئیں۔مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر بہر حال اب میں مختصراً آپ کے سامنے اس مسئلے کو جس کو فلسطین کا مسئلہ کہا جاتا ہے یا آج کل جسے ہم Gulf War کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اس کا جو گہرا تاریخی پس منظر ہے اس کا مختصر اذکر میں آپ کے سامنے کرتا ہوں۔بالفور (Balfour) نے ۱۹۱۷ء میں جو یہود سے وعدہ کیا تھا اس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ ۱۹۲۰ء میں رونما ہوا جبکہ لیگ آف نیشنز(League of Nations) نے ایک مینڈیٹ (Mandate) کے ذریعے انگریزوں کو فلسطین کے علاقے کا نگران مقرر کیا اور اس مینڈیٹ میں یہ بات داخل کی کہ بالفور نے جو یہود سے وعدہ کیا تھا اسے پورا کروانا اس نگران حکومت کا کام ہوگا۔اب دنیا کی تاریخ میں ایسا حیرت انگیز نا انصافی کا کوئی واقعہ اس سے پہلے کم ہوا ہوگا جو نا انصافی با قاعدہ قوموں کی ملی بھگت سے ہوتی ہے۔لیگ آف نیشنز تو تمام دنیا کی نمائندہ تھی یعنی کہا یہ جاتا تھا کہ سب دنیا کی نمائندہ ہے اس کا یہ کام ہی نہیں تھا کہ انگریزوں کے کسی وزیر نے جو کسی یہودی لارڈ کو خط لکھا ، راتھ چائلڈ یا راتھ شیلڈ (Rothchild) نام ہے۔اس کا تلفظ مجھے یاد نہیں مگر وہ فرانس کا بہت بڑا Banker تھا اس کو Mandate کے متعلق مختلف Sources ( ماخذ) نے مختلف سال بیان کئے ہیں۔20-1919 یہ مختلف سال ہیں جو مختلف مستند کتب میں بیان ہیں۔تا ہم کتاب Arab-Israeli Issue جو غیر جانبدار حقائق پیش کرتے ہیں میں ایک بہت اہم مقام رکھتی ہے۔Mandate کا سال 1920 بتاتی ہے۔بہر حال یہ 3 سال اس بارہ میں دور اثر اہم فیصلوں کے سال سمجھے جاسکتے ہیں۔