خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 376

خلیج کا بحران — Page 186

۱۸۶ یکم فروری ۱۹۹۱ء خدانخواستہ یہ اس کوشش میں کامیاب ہو گئے تو کل کا مؤرخ یہی بات لکھے گا کہ جب انہوں نے کوشش کی تو یہ مسلمان ممالک پوری طرح اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مل کر ایک عظیم اسلامی مملکت کو تباہ کرنے کے لئے شامل ہوئے اور ذرہ بھر بھی عدل یا رحم سے کام نہیں لیا اور ذرہ بھر بھی قومی حمیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔اس ضمن میں کچھ ممالک تو ایسے تھے جن سے مجھے یہی توقع تھی ، ان کے متعلق یہی احتمال تھا کہ ایسا ہی کریں گے جن میں ایک سعودی عرب ہے اور ایک Egypt اس لئے کہ Egypt پہلے ہی عالمی دباؤ کے نیچے آکر اور کچھ اپنا علاقہ واپس لینے کی خاطر اسرائیل کے ساتھ معاہدوں میں جکڑا جا چکا ہے اور اس وقت مغربی طاقتیں مصر کو کلیڈ اپنا حصہ سمجھتی ہیں۔دوسرے Saudi Arabia جس کی عالم اسلام سے غداریاں ایک تاریخی نوعیت رکھتی ہیں۔اس کا آغاز ہی غداری کے نتیجے میں ہوا اس کا قیام ہی غداری کے نتیجے میں ہوا۔مسلسل انگریزی حکومت کا نمائندہ رہا یا امریکن مفاد کا نمائندہ رہا اور اسلام کے دو مقدس ترین شہروں پر قابض ہونے کی وجہ سے مذہب کا ایک جھوٹا سا دکھاوے کا لبادہ پہنے رکھا جس کے نتیجے میں بہت سی مسلمان مملکتیں اس بدنصیب ملک کے رعب میں آئیں اور محض اس لئے اس سے محبت کرتی رہیں اور پیار کا تعلق رکھتی رہیں کہ وہ اسے مکے اور مدینے کا یا دوسرے لفظوں میں محمد رسول اللہ اور خدا کا نمائندہ سمجھتی تھیں۔امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کی وابستگی اس ضمن میں میں نے بارہا بعض مسلمان ریاستوں کے نمائندوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تم بڑے دھو کے میں مبتلا ہو میں سعودی عرب کی تاریخ کو اچھی طرح جانتا ہوں وہابیت کی تاریخ سے خوب واقف ہوں۔تم یہ سمجھتے ہو کہ مکے اور مدینے کے میناروں سے جو آواز میں بلند ہوتی ہیں یہ اللہ اور رسول کی آواز میں ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان میناروں پر صرف لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں اور مائیکروفون واشنگٹن میں ہیں اور ان مائیکروفونز پر بولنے والا اسرائیل ہے کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت