خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 376

خلیج کا بحران — Page 187

IAZ یکم فروری ۱۹۹۱ء ہے کسی لمبی چوڑی دلیل کی ضرورت نہیں کوئی انسان جو موجودہ حالات کا ذرا سا بھی علم رکھتا ہے یہ دوٹوک بات خوب جانتا ہے کہ سعودی عرب کلیہ امریکہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور امریکہ کلیہ اسرائیلی اقتدار میں داخل ہو چکا ہے اور اسرائیلی اقتدار کو عملاً اپنی Policies میں قبول کر چکا ہے۔یہ ظاہری صورت ہے جو نظر آتے ہوئے بھی مسلمان ممالک اس صورت سے اندھے رہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جماعت احمدیہ کو انتہائی جھوٹے اور غلیظ پرو پیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا کہ جماعت احمدیہ انگریز کی ایجنٹ ہے اس لئے جب مسلمان ممالک کے نمائندے ہم سے یہ بات سنتے تھے تو وہ سمجھتے تھے شاید اپنے گلے سے بلا ٹال کر سعودی عرب پر پھینکتے ہیں اور اپنے انتقام لے رہے ہیں ورنہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔اب دنیا کے سامنے یہ بات کھل کر آچکی ہے اور وہ سارے مولوی بھی جو ان سے پیسے لے کر ، ان کا کھا کر احمدیوں کو کبھی یہودیوں کے ایجنٹ قرار دیتے تھے۔کبھی انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیتے تھے کھلے بندوں اب ان Saudians کو سعودی حکومت کے سر براہوں اور سارے جوان کے ساتھ شامل ہیں ، وہابی علماء کو ، سب کو ملا کر یہودی ایجنٹ اور مغربی ایجنٹ قرار دے رہے ہیں اور ان کے متعلق ایسی گندی زبان استعمال کر رہے ہیں کہ وہ تو ہمیں زیب نہیں دیتی لیکن جیسا کہ پاکستان کی گلیوں میں اسی قسم کی گفتگو ہوتی ہے، ایسی ہی آواز میں بلند کی جاتی ہیں آپ جانتے ہی ہیں۔ایسی ہی آواز میں انگلستان میں بھی سعودیت کے خلاف بلند ہوئیں اور دوسرے ممالک کے متعلق بھی یہی اطلاع آرہی ہے کہ اب تمام عالم اسلام ان کی حقیقت کو سمجھا ہے اس لئے ان سے کسی قسم کی غداری پر تعجب کی کوئی گنجائش نہ تھی۔یقین تھا کہ یہی کریں گے یہی ان کا طریق ہے ، یہی ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ موجودہ دور میں بعض ایسے ممالک نے بھی اسلام کے مفاد سے غداری کی ہے جن سے دور کی بھی توقع نہیں تھی اور اس میں بھی میں سمجھتا ہوں کہ امریکن دباؤ کے علاوہ سعودی دباؤ بھی اور سعودی اثر بھی بہت حد تک شامل ہے اور کچھ غربت کی مجبوریاں ہیں جن کے نتیجے میں بعض ملکوں نے اپنے ایمان نیچے ہیں۔جن ممالک سے کوئی دور کی بھی توقع نہیں تھی ان میں ایک پاکستان ہے، ایک ترکی ہے اور ایک شام ہے۔