خلیج کا بحران — Page 185
۱۸۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم یکم فروری ۱۹۹۱ء خلیجی جنگ میں مسلمان ملکوں کا طرز عمل ( خطبه جمعه فرموده ۰۱ فروری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔خوفناک غداریاں اسلام کی تاریخ بہت سی خوفناک غداریوں سے داغدار ہے اور اگر آپ حضرت محمد مصطفی اے کے دور کے ابتدائی حصے کو چھوڑ کر جس میں خلفائے راشدین کا دور اور کچھ بعد کا عرصہ شامل ہے، باقی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے مسلمانوں ہی سے کچھ غدار حاصل کئے گئے ہیں اور کبھی بھی اس کے بغیر ملت اسلامیہ کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکا۔اس تاریخ پر نظر ڈالیں تو غداریوں کی تعریف میں موجودہ جنگ سیاہ ترین حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے کیونکہ آج تک کبھی اتنی اسلامی مملکتوں نے مل کر ملت اسلامیہ کے مفاد کے خلاف ایسی ہولناک سازش نہیں کی یا اس میں شریک نہیں ہوئے۔پس یہ جو موجودہ جنگ ہے اس کو اس دور میں آج کے مبصرین ان مسلمان ممالک کو پاگل بنانے کے لئے جوان کے ساتھ شامل ہوئے جو کچھ چاہیں کہیں۔لیکن کل مغربی دنیا کے محققین اور مؤرخین بھی یہی بات کہیں گے جو میں آج کہہ رہا ہوں کہ ان مسلمان ممالک نے ان اسلامی مفاد کے ساتھ حد سے زیادہ غداری کی اور اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ابھرتی ہوئی اسلامی مملکت کو تباہ کیا اور اس طرح ظلم کے ساتھ ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی۔ابھی تک تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کوشش کی۔اللہ بہتر جانتا ہے کل کو کیا نتیجہ نکلے گا لیکن اگر