خلیج کا بحران — Page 179
۱۷۹ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء بتائیں میں کیا جواب دوں۔میں نے کہا تم یہ جواب دو کہ جو Tony Ben (ممبر برٹش پارلیمنٹ ) کا تبصرہ ہے میرا بعینہ وہی تبصرہ ہے جب میرے دل کی صحیح آواز وہ منصف مزاج انگریز بلند کر رہا ہے تو مجھے کیا ضرورت ہے اس آواز کو خو د بلند کرنے کی کیونکہ جب میں کروں گا تو تم مجھے غدار قرار دو گے۔جب Tony Ben کرے گا تو تم اسے غدار قرار دینے کی جرات نہیں کر سکتے۔پس جو باتیں ہو رہی ہیں انصاف کے خلاف ہو رہی ہیں ، تقویٰ کے خلاف ہو رہی ہیں۔کوئی قانون High moral Ground نہیں ہے بلکہ اخلاقی انحطاط میں تحت الثریٰ تک پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔پس یہ وہ صورتحال ہے جو درست اور تقویٰ پر مبنی صورتحال ہے مگر اس کے باوجود کسی مسلمان عالم کو اور کسی مسلمان بادشاہ کو یہ حق نہیں ہے کہ ان لڑائیوں کو اسلامی جہاد قرار دے لیکن مسلمان عوام کو جب جہاد کے نام پر بلایا جائے گا تو اس لئے لبیک کہیں گے کہ وہ دل سے جانتے ہیں اور بار باران کا کردار یہ ثابت کرتا چلا جارہا ہے کہ ان لڑائیوں کے پس منظر میں اسلام کی دشمنی ضرور موجود ہے۔پس وہ معصوم جہاں مارے جائیں گے میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا کی رحمت ان سے رحم کا سلوک فرمائے گی اور اگر اسلام کی کامل تعریف کی رو سے وہ شہید قرار نہیں بھی دیئے جاسکتے تو چونکہ اسلام کی دشمنی میں ان سے ظلم ہوئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان سے رحمت اور مغفرت کا سلوک کرے گا۔لیکن پھر بھی میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ نہ مسلمان علماء کا حق ہے اور نہ مسلمان بادشاہوں کا حق ہے کہ وہ اپنی سیاسی لڑائیوں کو خواہ وہ مظلوم کی لڑائیاں ہوں اسلامی جہاد قرار دیں۔دراصل آج کل اسلام کی دشمنی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ظاہر وباہر ہوتی چلی جارہی ہے اور منہ سے کوئی کچھ کہے در حقیقت دل کی آواز مختلف بہانوں کے ساتھ اٹھ ہی جاتی ہے اور زبان پر بھی آہی جاتی ہے اور جہاں تک عمل کا تعلق ہے وہ میں نے بیان کیا ہے کہ ایسی مکروہ عملی تصویر میں بنائی جارہی ہیں کہ جو خون کا رنگ رکھتی ہیں اور نفرت کے برش سے بنائی جارہی ہیں اور اسلام کی نفرت کا برش ان کے خدو خال بناتا چلا جارہا ہے اور کھل کر دنیا کے سامنے وہ تصویریں ابھرتی چلی جارہی ہیں