خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 376

خلیج کا بحران — Page 178

۱۷۸ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء گے اور جو کچھ بھی ان معصوم لوگوں کا بیچ رہے گا وہ تمہارے سپرد کر دیں گے کہ جاؤ اور جو کچھ ان کا رہ گیا ہے اس کو ملیا میٹ کر دو یا ان کے مردوں کی لاشیں لٹکا کر ان سے اپنا انتقام لو اور اپنے سینے ٹھنڈے کرو اور پھر یہ باتیں ان کے پیش کردہ اخلاق کے اس قدر شدید منافی ہیں، جن اخلاق کا یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں خود ان کے مخالف ہیں ، جو پروپیگینڈا دنیا میں کر رہے ہیں خود اس پرو پیگنڈے کو جھٹلانے والی باتیں ہیں۔پرو پیگنڈا یہ کر رہے ہیں کہ صدر صدام ایک نہایت ہی خوفناک جابر ہے۔ہم اس کو سزا اس لئے دے رہے ہیں کہ اس نے خود اپنے ملک کے باشندوں کو زبردستی غلام بنایا ہوا ہے۔ہم اس کو سزا اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے باشندوں پر ظلم اور تشدد کر رہا ہے اور ان کی رہائی کی خاطر ہم صدر صدام کے خلاف ہیں نہ کہ اہل عراق کے خلاف اور سزا کن معصوموں کو دے رہے ہیں جن پر ان کے بیان کے مطابق مسلسل سالہا سال سے صدر صدام تشدد کرتا چلا جارہا ہے اور مظالم تو ڑتا چلا جا رہا ہے ان معصوم عورتوں اور بچوں کا کیا قصور ہے جو تمہارے بیان کے مطابق پہلے ہی مظلوم ہیں جن کی آزادی کے نام پر تم نے جنگ شروع کی ہوئی ہے کہ ان کو اس جرم کی سزا دو جس جرم کا ارتکاب تمہارے نزدیک صدر صدام نے اسرائیل کے خلاف کیا اور ایسی سزا دو کہ یہود کی تاریخ میں بھی ایسے خوفناک انتقام کی مثالیں نہ ملیں۔تمہیں یہ کیا حق ہے کہ عیسائیت کی معصوم تعلیم کو داغدار کرو اور عیسائیت کی تعلیم کو اور عیسائیت کی تاریخ کو بھی اسی طرح انتقام کے ظلم سے خون آلود کر دو جس طرح یہود کی تاریخ ہمیشہ خون آلود رہی ہے۔پس یہ ساری غیر منصفانہ باتیں ہیں عدل کے خلاف باتیں ہیں۔تقویٰ کے خلاف باتیں ہیں جن کے خلاف مسلمان کے دل میں ایک رد عمل ہے اس کے باوجود وہ جن ملکوں میں رہتا ہے اس کا پر امن شہری ہے۔اس کے باوجود کہ وہ اس بات پر آمادہ ہے کہ ملک کا قانون توڑے بغیر صرف ظلم کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کرے اس کو غدار قرار دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔یہ کونسا انصاف ہے۔۔مجھ سے ایک احمدی نے فون پر سوال کیا کہ میرا BBC کے ساتھ یاکسی اور ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو ہونے والا ہے وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تمہارا کیا رد عمل ہے؟ کیا تبصرہ ہے ان حالات پر ؟