خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 376

خلیج کا بحران — Page 180

۱۸۰ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء اس کے نتیجے میں اور جو کچھ بھی ہوا من بہر حال قائم نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ بنیادی اصول کبھی کوئی دنیا میں تبدیل نہیں کر سکا کہ نفرتیں نفرتوں کے بچے پیدا کرتی ہیں۔اس لئے یہ ابھی سے بیٹھے ہوئے منصوبے بنارہے ہیں کہ کس طرح اس جنگ کے اختتام پر اس خطہ ارض میں جسے مشرق وسطی کا نام دیا جاتا ہے امن کا قیام کریں گے۔یہ محض خواب و خیال کی جاہلانہ باتیں ہیں۔جہاں نفرتوں کے بیج اتنے گہرے بودیئے گئے ہوں وہاں سے نفرتیں ہی اُگیں گی۔جہاں جنگ کے بیج بو دیئے گئے ہوں وہاں جنگیں ہی اُگیں گی اور یہ ہو نہیں سکتا کہ نفرتوں کے نتیجہ میں محبتیں پیدا ہونی شروع ہو جا ئیں اور جنگ کے نتیجے میں امن کی فصلیں کاٹنے لگو۔پس آج نہیں تو کل یہ دیکھیں گے کہ جو اقدامات یہ آج کر رہے ہیں یہ ہمیشہ کے لئے دنیا کے امن کو تباہ کر رہے ہیں اور جو مجرم ہے خدا اس کو سزا دے گا کیونکہ انسان تو بے اختیار ہے۔تعصب سے پاک تبصرہ جماعت احمد یہ کسی قومی تعصب میں مبتلا ہو کر کسی خیال کا اظہار نہیں کرتی ، نہ تعصب میں مبتلا ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارے دل تو حید نے سیدھے کر دیئے ہیں۔کوئی کبھی ان میں نہیں چھوڑی۔ہماری وفا توحید کے ساتھ ہے اور توحید جس کے دل میں جاگزیں ہو جائے اور گڑ جائے اس کے دل میں عصبیتیں جگہ پاہی نہیں سکتیں۔یہ دو چیزیں ایک سینے میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔تو حید تو کل عالم کو اکٹھا کرنے والی طاقت ہے۔تو حید جس سینے میں سما جائے اس میں کوئی عصبیت جگہ نہیں پاسکتی۔یہ ایک بنیادی غیر مبدل قانون ہے۔اسی لئے میں جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہمارے تبصروں میں خواہ کیسی ہی تلخی ہو وہ حق پر مبنی تبصرے ہوں گے اور آج نہیں تو کل دنیا ہماری تائید کرے گی کہ ہاں تم نے حق کی صدا بلند کی تھی اور اس میں کوئی تعصب کا شائبہ تک باقی نہیں تھا۔لیکن اس کے علاوہ بھی بعض باتیں ہیں جن کی وجہ سے طبیعتوں پر سخت انقباض بھی ہے اور