خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 376

خلیج کا بحران — Page 144

۱۴۴ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء والے یہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ جلد قضیئے سے نپٹیں اور اصل حالات کی طرف واپس لوٹیں کبھی بھی کسی اصل کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے بلکہ تاریخ انہیں رگیدتی ہوئی آگے بڑھاتی چلی جائے گی اور آئندہ نہایت خطر ناک قسم کے حالات ہیں جو ان کو درپیش ہوں گے اور ان سے یہ بیچ نہیں سکیں گے۔یہ تو تیز رفتار لہروں پر سوار ہو چکے ہیں۔جیسے پہاڑی ندی نالے زیادہ تیز اترائی میں چلتے ہیں تو ان کے منہ سے جھا گیں نکلتی ہیں ،ان کے اوپر مضبوط سے مضبوط کشتی یا جہاز بھی ہوتو تنکوں کی طرح اس سے یہ موجیں کھیلتی ہیں اور خاص طور پر جب یہ ندیاں آبشاروں کی صورت میں چٹانوں سے نیچے اترتی ہیں تو بڑی سے بڑی مضبوط چیزوں کے بھی پر نچے اڑا دیتی ہیں۔پرزہ پرزہ کر ڈالتی ہیں۔پس یہ زمانے کی طاقتور لہریں ہیں جن پر یہ سوار ہو چکے ہیں اور ان سے واپسی اب ان کیلئے ممکن نہیں۔دعاؤں کی پر زور تحریک صرف ایک راہ واپسی کی ہے کہ تقویٰ اختیار کریں۔اپنے فیصلے خدا کو پیش نظر رکھ کر کریں۔امت مسلمہ کا عمومی مفاد پیش نظر رکھیں اور اپنے ذاتی مفاد کو قربان کرنے پر تیار ہوں۔اگر یہ ایسا کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ عالم اسلام کے لئے ایک نیا عظیم الشان دور رونما ہوگا۔وہ بھی ایک نیا دور ہو گا جو پہلے جیسا نہیں ہوگا کیونکہ پہلے کی طرف تو اب کبھی واپس نہیں جاسکتے مگر ایک ایسا دور ہوگا جو گزشتہ ادوار سے ہزاروں گنا بہتر ہوگا اور بہتر ہوتا چلا جائے گا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے گا اور اگر امید نہیں تو دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو غیر معمولی طور پر عقل عطا فرمائے اور احمد یوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ ہم بہت کمزور ہیں لیکن ہم دعا کر سکتے ، دعا کرنا جانتے ہیں، دعاؤں کے پھل ہم نے کھائے ہوئے ہیں اور کھاتے ہیں۔پس جب نمازوں میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کی دعا کیا کریں تو خصوصیت کے ساتھ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ سے یہ عرض کیا کریں کہ مکے اور مدینے کی بستیوں کا تقدس تو عبادت سے وابستہ ہے اور ہمیشہ عبادت سے وابستہ رہے گا۔یہ بستیاں اس لئے مقدس ہیں کہ ان بستیوں میں