خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 376

خلیج کا بحران — Page 143

۱۴۳ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء میں نے غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں اس کا تعلق سعودی عرب اور اس کے ساتھیوں کی خود غرضی سے ہے اس ساری جنگ کا بل تو سعودی عرب نے ادا کرنا ہے اور یہ سعودی عرب بے شمار امیر ہونے کے باوجود اندر سے سخت کنجوس ہے ان کو Billions کے جو بل ادا کرنے پڑرہے ہیں انہوں نے حساب لگایا ہو گا کہ اگر Sanctions کا انتظار کیا جائے تو جب تک عراق کا صفایا ہوتا اس وقت تک ہمارا بھی صفایا ہو چکا ہوگا۔ہمارے سارے بینک بیلنس ختم ہو چکے ہوں گے اس لئے ان کو بڑی سخت افراتفری پڑی ہے۔اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ ہم تو اس عرصے میں کنگال ہو جائیں گے تو انہوں نے دباؤ ڈالا ہے اور امریکہ یہ بات کھل کر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کر سکتا کہ کون ہم پر دباؤ ڈال رہا ہے۔صدر بش خودا اپنے ملک میں ذلیل ہو رہا ہے کانگریس بار بار اس سے سوال کر رہی ہے کہ تم کل یہ باتیں کر رہے تھے Sanctions یوں چلیں گی اور ووں چلیں گی اور ایک سال کا عرصہ گزرے گا اور عراق گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔اب اچانک تم نے سارے فیصلے بدل دیئے اور لڑائی کے سوا بات ہی کوئی نہیں کرتا۔اب صدر بش کس طرح کہے کہ بھئی ہم تو Mercenaries بنے ہوئے ہیں۔ہم تو کرائے کے فوجی ہیں اور وہ ملک ہمیں حکم دے رہا ہے جس نے ہمیں کرائے پر رکھا ہوا ہے ، وہ کہتا ہے کہ جلدی کرو میں اس سے زیادہ بل برداشت نہیں کر سکتا۔تو اصل صورت حال یہ ہے۔پس جب میں نے کہا کہ Ball اب مسلمان ممالک کی کورٹ میں ہے تو ایک تو عمومی نظرئیے کے طور پر کہا ، وہ میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔در اصل بنیادی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے ہاتھ میں فیصلہ ہے اور اس کے جو Mounting Bills ہیں ،اس کے بڑھے ہوئے جنگی اخراجات ہیں وہ اسے مجبور کر رہے ہیں کہ جلدی یہ فساد بیچ میں سے ختم ہو اور پھر ہم اصل صورت حال کی طرف واپس لوٹیں۔مگر یہ بڑی بیوقوفی ہے ان کی جو یہ سوچ رہے ہیں کہ جلد اصل صورت حال کی طرف واپس لوٹیں۔اصل صورت حال کا تو نام و نشان مٹ چکا ہو گا۔اگر عراق مٹایا گیا تو اس کے ساتھ ماضی کی ساری کی ساری تاریخ ملیا میٹ کر دی جائے گی ، عرب ممالک کے مزاج بدل چکے ہوں گے ، عرب قوموں کی سوچیں بدل چکی ہوں گی اور نئے حالات میں نئے زمانے پیدا ہوں گے اور بیوقوفوں والی خوا میں دیکھنے