خلیج کا بحران — Page 145
۱۴۵ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء ابراہیم علیہ السلام اور محمد مصطفی ﷺ نے عبادتیں کی ہیں۔پس آج اس دنیا میں ان عبادتوں کو زندہ کرنے والے ہم تیرے عاجز غلام ہیں، اس شان کے ساتھ نہیں مگر جس حد تک بھی توفیق پاتے ہیں ہم ان عبادتوں کو اسی طرح زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، پس اے ہمارے معبود! ہماری عبادتوں کو قبول فرما اور ہماری مددفرما اور آج اگر تو نے عبادت کرنے والوں کی مدد نہ کی تو دنیا سے عبادت اٹھ جائے گی اور دنیا سے عبادت کا ذوق اٹھ جائے گا۔پس تو ہماری التجاؤں کو قبول فرما ايَّاكَ نَعْبُدُ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں، دنیا کی قوم کی طرف نہیں دیکھ رہے تیری طرف دیکھ رہے ہیں تیرے حضور جھک رہے ہیں تو مدد فرما۔اگر ہماری یہ دعا قبول ہو جائے اور اگر دل کی گہرائیوں سے اٹھے اور تمام دنیا سے احمدی یہ دعائیں کر رہے ہوں تو ہر گز بعید نہیں کہ یہ دعا قبول ہو جائے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تعالیٰ Ball کسی کی کورٹ میں نہیں رہے گا Ball تقدیر الہی کی کورٹ کی طرف واپس چلا جائے گا اور آپ کی دعائیں ہیں جن کا ہاتھ تقدیر الہی پر پڑتا ہے یا جن کا ہا تھ تقدید الہی کے قدموں کو چھوتا ہے اور پھر تقدیر الہی آپ کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ رنگ بدلتی چلی جاتی ہے۔اب دنیا کو یہ بدلتے ہوئے رنگ دکھا دیں اور دنیا کو بتادیں کہ خدا آپ کا ہے اور آپ خدا کے ساتھ ہیں خدا آپ کے ساتھ ہوگا۔