خلیج کا بحران — Page 129
۱۲۹ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء کر رہی ہو کہ انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کے نام پر ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ کویت کی سرزمین کو بحال کرنے کے لئے ان کمزوروں کی مدد کریں۔ظلم و ستم ہو رہا ہے۔اس کے خلاف ہم علم بلند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ ہماری اعلیٰ اخلاقی قدریں ہم سے یہ تقاضا کر رہی ہیں، اگر ہم نے یہ نہ کیا تو دنیا سے انسانیت مٹ جائے گی۔اگر ہم نے ایسانہ کیا تو دنیا سے ہر غریب اور کمزور ملک کا امن وامان اٹھ جائے گا۔اس کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں رہے گی۔اگر یہ واقعہ درست ہے اور اگر چہ بہت دیر میں خیال آیا ہے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بہت اچھا اب اس نیک خیال کے نتیجے میں امریکہ خالی کر دو اور جو بیچارے چند بچے کھچے Red Indians رہ گئے ہیں ان کے سپردان کی دولت کر کے واپس اپنے اپنے پرانے آبائی ملک کی طرف لوٹ جاؤ ؟ لیکن جب آپ یہ کہیں گے تو کہیں گے تم پاگل ہو گئے ہو؟ تم کیسی باتیں کرتے ہو؟ ان دونوں کے درمیان کوئی Link نہیں ہے۔وہ اور بات تھی یہ اور بات ہے۔اب اگر دو ایک جیسی باتوں کو اور بات اور ” اور بات کہ کر رد کر دیا جائے تو اس کا کیا جواب ہے۔برطانیہ جو امریکہ کے ساتھ عراق کی مخالفت میں سب سے زیادہ جوش دکھا رہا ہے اور بار بار وہی دلائل دے رہا ہے ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب انہوں نے آسٹر یلیا پر قبضہ کیا تو وہ بھی ایک براعظم تھا اور اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ بہت گہری مشابہت ہے۔آسٹریلیا میں جو مظالم انگریز قابضوں نے تو ڑے ہیں وہ اتنے زیادہ خوفناک ہیں کہ امریکہ کے مظالم بھی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ایک نمایاں فرق آسٹریلین Aborigines یعنی پرانے باشندوں اور امریکن باشندوں میں یہ تھا کہ امریکن باشندے لڑا کا قو میں تھیں۔جنگجو قو میں تھیں اور بڑی بہادری کے ساتھ لڑ کر اپنے اپنے علاقوں کا دفاع کرنا جانتی تھیں اور بڑی عظیم الشان قربانیاں اس راہ میں دیتی تھیں لیکن آسٹریلیا کے Aborigines با لکل امن پسند لوگ تھے اور ان بے چاروں کو لڑنا آتا ہی نہیں تھا۔ان کو انہوں نے جنگلوں میں اس طرح شکار کیا ہے جس طرح ہرن کا شکار کیا جاتا ہے اور شکار کرنے کے بعد جو بچ جاتے تھے ان کو پکڑ کر با قاعدہ آپریشنز کے ذریعے اس حال تک پہنچا دیتے تھے کہ آئندہ ان سے نسل پیدا ہی نہ ہو سکتی ہو اور بہت ہی وسیع پیمانے پر اور بڑے بھیا نک طریق پر نسل کشی کی گئی ہے