خلیج کا بحران — Page 130
۱۳۰ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء یہاں تک کہ ان قوموں میں سے جن میں ایک وقت میں 1600 الگ الگ زبانیں بولی جاتی تھیں، اب صرف چند زبانیں ہیں جن کا ریکارڈ رہ گیا ہے اور ان قبائل کے بچے کھچے حصوں کے چند ایسے علاقے رہ گئے ہیں جہاں جس طرح چڑیا گھر میں جانور رکھے جاتے ہیں اس طرح ان کی حفاظت کی جارہی ہے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے کہ یہ وہ لوگ تھے جن سے ہم نے یہ ملک لیا ہے۔ان کا انتظام کیا جا رہا ہے کہ کم سے کم ان کی نسلیں باقی رہ جائیں۔اب یہ برطانیہ کی تاریخ ہے۔مغربی طاقتوں کا متضاد طرز عمل اس کے علاوہ ہندوستان میں جو کچھ کیا گیا جو افریقہ میں کیا گیا ، ان سب باتوں کے ذکر کا وقت نہیں ہے مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اصول اور اخلاق کی جب بات کی جائے تو اصول اور اخلاق زمانے سے بالا ہوا کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ بدل نہیں جایا کرتے۔اب Sanctions کی باتیں کرتے ہیں تو حال ہی کی بات ہے کہ ابھی جنوبی افریقہ کے خلاف Sanctions کی گئیں اور ان Sanctions میں سالہا سال لگ گئے اور انہوں نے کوئی اثر نہ دکھایا یعنی نمایاں اثر نہ دکھایا۔اس کے نتیجے میں یہ آواز بلند نہیں ہوئی کہ Sanctions میں اتنی دیر ہوگئی ہے وہ کام نہیں کر رہیں۔اب ضرورت ہے کہ ساری دنیا مل کر جنوبی افریقہ پر حملہ کر دے اور خود مغربی ممالک نے خود انگلستان نے ان Sanctions کا بہت سے مواقع پر ساتھ نہیں دیا اور انگلستان کی رائے عامہ نے بھی اپنی حکومت کے خلاف آواز بلند کی مگر پرواہ نہیں کی گئی اور ان کے خلاف بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔یہ کسی پرانی تاریخ کا حصہ نہیں یہ آج کی تاریخ کی باتیں ہیں اور نہ یہ کسی نے آواز بلند کی کہ جو قو میں Sanctions کے ساتھ تعاون نہیں کر رہیں ان کو ز بر دستی فوجی طاقت کے ساتھ Sanctions کے مطابق کارروائی پر مجبور کر دیا جائے اور نہ یہ آواز بلند کی گئی کہ اتنی دیر ہوگئی ہے Sanctions کام نہیں کر رہیں اب اس کے متعلق کچھ اور کرنا چاہئے لیکن عراق کے متعلق یہ دونوں باتیں بڑی شدت کے ساتھ اٹھتی رہیں۔ایک تو یہ کہ Sanctions یعنی