خلیج کا بحران — Page 128
۱۲۸ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء میں یا ان کے ٹیلی ویژن وغیرہ پر ایسے مضامین اور پروگرام دیکھ سکتے ہیں کہ جس میں یہ بتاتے ہیں کہ فلاں نسل کے غائب ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے اس کو بچاؤ۔لیکن وسیع براعظم پر پھیلی ہوئی مختلف ریڈ انڈین قوموں کو خود انہوں نے اس طرح ہلاک کیا ہے اور اس طرح ملیا میٹ کیا ہے کہ ان میں بہت سی ایسی ہیں جن کا نام ونشان مٹ چکا ہے اور بہت تھوڑی تعداد میں وہ قومیں باقی رہ گئی ہیں جن کا ذکر ان کی تاریخ میں اور ان کے لٹریچر میں ملتا ہے۔اب وہ صرف ان کی فلموں میں دکھائی دیں گی یا اُن کے لٹریچر میں ورنہ اکثر وہ قبائل صفحہ ہستی سے بالکل نابود ہو چکے ہیں اور جس رنگ میں مظالم کئے گئے ہیں وہ تو ایک بڑی بھاری داستان ہے۔پھر افریقہ پر قبضہ کر کے یا افریقہ پر حملے کر کے یورپین قوموں نے جس طرح مظالم کئے ہیں جس طرح ان کو غلام بنا کر لکھوکھا کی تعداد میں بیچا گیا اور ان سے زبر دستی مزدوریاں لی گئیں اور امریکہ میں سب سے زیادہ ان قیدیوں کی مانگ تھی جن کو غلام بنا کر پھر امریکہ میں فروخت کیا گیا اور آج امریکہ کی آبادی بتارہی ہے کہ وہاں کثرت کے ساتھ یہ سیاہ فام امریکن اسی تاریخ کی یاد زندہ کر نیوالے ہیں جب انسانوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا گیا کہ اس کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جن قلعوں میں انکو پہلے قید رکھا جاتا تھا ان میں سے ایک قلعہ میں نے بھی دیکھا ہے اور اتنی تھوڑی جگہ میں اتنے زیادہ آدمیوں کو بھر دیا جاتا تھا کہ Black Hole کے متعلق جو ہم نے ہندوستان کی تاریخ میں پڑھا ہوا ہے ویسے Black Hole بار بار بنائے گئے اور بہت سے آدمی اُن میں سے دم گھٹ کر مر جایا کرتے تھے اور باقیوں کو پھر گائے اور بھینسوں کی طرح ہانک کر جہازوں پر سوار کر دیا جاتا تھا۔جہازوں کی جو حالت ہوتی تھی وہ ایسی خوفناک تھی کہ ان کے اپنے مؤرخین لکھتے ہیں کہ جہاز پر ایک بڑی تعداد میں وہ سفر کی صعوبتیں برداشت نہ کر سکنے کے نتیجے میں مر جایا کرتے تھے۔اور بہت ہی برے حال میں وہاں پہنچا کرتے تھے۔پھر وہاں ان کو اس طرح ہانکا جاتا تھا جس طرح گائے بیل کو ہانکا جاتا ہے۔سانٹے مارکر ان سے با قاعدہ مزدوریاں لی جاتی تھیں یا ان کی سواریاں چلاتے تھے، ان کے ہل چلاتے تھے۔ہر قسم کے کام جو بالعموم انسان جانوروں سے لیتا ہے وہ ان سے بھی لیتا تھا۔تو جس قوم کی یہ تاریخ ہو آج وہ یہ اعلان