خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 376

خلیج کا بحران — Page 115

" ۱۱۵ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء دوسرا حبل کا لفظ ”حَبلُ الْوَرِيد “ کے محاورے کے طور پر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔حَبْلُ الْوَرِيد “ شہ رگ کو کہتے ہیں۔یہ وہ رسی ہے جو دل اور دماغ کا تعلق سارے بدن سے ملاتی ہے اور اگر یہ رسی کٹ جائے تو دل اور دماغ دونوں کا تعلق بدن سے کٹ جاتا ہے اور اس کا دوسرا نام موت ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا کی آیت میں یہ وہ جگہ یعنی وہ آیت ہے جس کا مضمون میں نے بیان کیا ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں حبل کا لفظ در حقیقت ان دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو استوار رکھو جو تمہاری زندگی کی ضمانت ہے اگر تمھارے ان تعلقات پر ضرب پڑ گئی یا وہ منقطع ہو گئے تو اسی حد تک تم زندگی سے محروم ہو جاؤ گے۔حبل کا دوسرا معنی بھی یہاں صادق آتا ہے اور پہلے معنی کی مزید تشریح کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ در حقیقت قرآن کریم نے تمام مومنوں کو ایک معاہدے کی رو سے اپنے انبیاء اور شریعتوں سے باندھ دیا ہے اور یہ عہد اللہ تعالیٰ کا آغاز انسانیت سے لے کر آج تک ہمیشہ قوموں سے لیا جاتا ہے۔پس ہر صاحب شریعت نبی اور اس کی شریعت عملاً حَبلُ الله بن جاتے ہیں کیونکہ خدا کے ساتھ کئے جانے والے عہد کے ذریعے وہ ان دونوں سے باندھے جاتے ہیں۔شریعت کی اطاعت اور صاحب شریعت نبی کی اطاعت یہ ضروری ہو جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر حبل اللہ کا یہی معنی ہے تو ایک دفعہ ایک صاحب شریعت نبی آ گیا اور شریعت پیش کر کے چلا گیا تو کیا ہر انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا اس صاحب شریعت نبی سے ایک تعلق قائم ہو چکا ہے اللہ کی جبل کے ذریعے۔میں اپنے عہد بیعت میں جو روحانی معنوں میں میں نے اس سے جوڑا ہے یا باندھا ہے مخلص ہوں اور ثابت قدم ہوں اور اسی طرح شریعت سے میرا مخلصانہ تعلق ہے تو مجھے اب کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے گویا میرا اسلام اسی سے کامل ہو گیا کہ میں نے ایک شارع نبی کو قبول کیا اور اس کی شریعت کے ساتھ اطاعت کا تعلق جوڑ لیا۔