خلیج کا بحران — Page 114
۱۱۴ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء ہے تو پھر جو کسوٹی ہم تمہارے سامنے رکھتے ہیں اس پر اپنے آپ کو پرکھ کر دیکھو اور اسلام کے جو حقیقی اور بنیادی معنی ہیں وہ ہم تم پر کھولتے ہیں اور یہ دیکھو کہ تم ان معنی سے انحراف تو نہیں کر جاتے۔فرمایا ! وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا حقیقی اسلام یہ ہے کہ اللہ کی رسی کو پکڑے رکھو اور یہ اطاعت کی حالت ہے مگر جَمِیعًا اجتماعی طور پر انفرادی طور پر نہیں۔پس ایک اور مضمون بیان ہوا ہے جو پہلے مضمون کے تسلسل میں ہی اس کا اگلا قدم ہے۔بِحَبْلِ اللہ کس کو کہتے ہیں؟ پہلے اس مضمون پر میں کچھ بیان کر دوں پھر اس مضمون پر کچھ مزید روشنی ڈالوں گا۔قرآن کریم کی روح سے حبل اللہ کا ترجمہ کرتے ہوئے دو ایسی آیات ذہن میں ابھرتی ہیں جہاں حبل کا لفظ بیان ہوا ہے ایک تو آیت وہ ہے جہاں فرمایا : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا تُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (آل عمران :۱۱۳) کہ وہ لوگ ہیں جن پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے۔این مَا ثُقِفُوا جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں گے وہ ذلت اور رسوائی اور محبت کی حالت میں پائے جائیں گے۔إِلَّا بِحَبْلِ مِنَ اللہ سوائے اس کے کہ اللہ کی حبل ان کو اس ذلت سے مستثنیٰ کرنے والی ہو اور لوگوں کی حبل ان کو اس ذلت سے مستقلی کرنے والی ہو۔وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ ذلت سے ان کی اس حصے میں حفاظت کرنے والی ہو۔66 66 یہاں ”حَبْلُ الله “ سے اور حَبْلُ النَّاسِ “ سے بلحاظ معنی ایک ہی مراد ہے کیونکہ دونوں کے ساتھ حبل کا لفظ استعمال ہوا ہے اور تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں حبل سے مراد عہد ہے۔یعنی خدا کا عہد جو بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔اس عہد کے نتیجے میں بعض دفعہ قو میں ذلت سے بچائی جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ان سے عہد ہے کہ اس حالت میں میں تمہیں ایک خاص تکلیف سے بچاؤں گا۔جو بھی عہد کی نوعیت ہو اس کے نتیجے میں خدا کا عہد ان کو پہنچتا اور وہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح قوموں کے عہد ہیں۔ایک قوم کا دوسری قوم سے معاہدہ ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ہم پر حملہ کرے تو تم ہمارے دفاع کے لئے چلے آنا تو اس معاہدے کی رو سے پھر بعض دفعہ انسان بعض قسم کے شر سے بچائے جاتے ہیں تو حبل کا بنیادی معنی عہد ہوا۔