خلیج کا بحران — Page 116
۱۱۶ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء یہ ایک سوال جو پیدا ہوتا ہے اس کا جواب یہی آیت یہ دیتی ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اسلام سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم شریعت سے تعلق جوڑ لو اور صاحب شریعت نبی سے تعلق جوڑ لو بلکہ حبل الله " سے مراد یہ ہے یعنی دوسرے معنوں میں اسلام سے مراد یہ ہے کہ اکٹھے رہ کر تعلق جوڑو جہاں بھی تمہارا تعلق بظاہر قائم رہا اور آپس کا اتحاد ٹوٹ گیا وہاں تم اسلام کی حالت سے باہر نکل جاؤ گے۔پس صرف خدا کی رسی کو پکڑنا کافی نہیں خدا کی رسی کو اجتماعی طور پر پکڑ نا ضروری ہے۔بیعت خلافت کی ضرورت واہمیت یہ ایک عظیم الشان مضمون ہے جس نے اس بات کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ امت کا شیرازہ بکھرنے نہیں دینا ور نہ شریعت اور صاحب شریعت نبی سے تمہارا تعلق کوئی کام نہیں دے گا۔اگر تم بظاہر تعلق رکھتے ہوگے لیکن تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تمہارے اعمال کی وجہ سے یا تمہارے اقوال کی وجہ سے امت کا شیرازہ بکھرنے لگے گا اور تم ایک دوسرے سے جدا ہونے لگو گے تو پھر حَبْلُ اللہ سے تمہارا تعلق حقیقی معنوں میں شمار نہیں کیا جائے گا اور خدا کے نزدیک تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔پس اسلام کی یہ مزید تشریح ہے جو پہلی آیت سے ذہن میں نہیں ابھرتی تھی از خود ذہن اس طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا لیکن دوسری آیت نے اس کو کھول کر بیان فرما دیا۔پس بیعت خلافت کی جو ضرورت پڑتی ہے وہ اس لئے نہیں کہ خلیفہ کوئی صاحب شریعت مامور ہوتا ہے بلکہ خدا کے صاحب شریعت رسول کے گزر جانے کے بعد اس قرآن کے یا اس کتاب کے باقی رہنے کے بعد جو ہر صاحب شریعت نبی کے بعد باقی رکھی جاتی ہے محض ان سے تعلق کافی نہیں ہے ، پھر جمیعت کیسے نصیب ہوگی۔جمیعت مرکزیت سے نصیب ہوتی ہے اور نظام خلافت وہ جمیعت عطا کرتا ہے۔خدا سے تعلق ٹوٹ جائے تو پھر امتیں بکھر جاتی ہیں۔پس جب ایک امت دو فرقوں میں تبدیل ہو جائے یا تین یا چار یا پانچ فرقوں میں بٹ جائے اور ان میں کسی کا بھی خلافت سے تعلق قائم نہ ہو اور خدا کی رسی کو اس طرح نہ چمٹیں کہ گویا سب اکٹھے