حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ

by Other Authors

Page 27 of 34

حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 27

حضرت خدیجہ الکبری 27 مجھے خدیجہ رضی اللہ عنھا سے تعلق کی وجہ سے ان کی سہیلیوں کا بڑا پاس ہے۔ان کے رشتہ داروں سے بھی آپ ﷺ ہمیشہ حسن سلوک فرماتے۔(34) جنگ بدر میں مسلمانوں نے کفار کے جو قیدی پکڑے تھے رسول اللہ اللہ نے ان کی رہائی کی یہ شرط مقرر فرمائی کہ وہ فدیہ ادا کر دیں صلى الله حضور ﷺ کے داماد اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی بہن ہالہ بنت خویلد کے لڑکے ابو العاص بھی ان قیدیوں میں شامل تھے۔ان کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنھا نے ان کے فدیہ کے طور پر ایک ہار بھجوایا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ علمانے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر اسے جہیز میں دیا تھا۔جب یہ ہار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اسے دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے رقت بھرے لہجے میں فرمایا کہ اگر چاہو تو خدیجہ رضی اللہ عنھا کا دیا ہوا یہ ہار اس کی بیٹی کو واپس کر دو۔چنانچہ وہ ہار حضرت زینب رضی اللہ عنھا کو واپس کر دیا گیا اور ابو العاص کو بھی رہا کر کے مکہ بھیج دیا گیا۔(35) الغرض رسول پاک عہ کی آپ سے محبت نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ وفات کے بعد بھی جاری رہی۔تاریخ میں حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا کا مقام بہت