حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 26
حضرت خدیجتہ الکبری 26 حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کا ذکر کیوں کرتے رہتے ہیں وہ ایک بوڑھی عورت تھی جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ مے کو اس سے بہتر بیویاں عطا فرما دی ہیں۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عائشہ رضی اللہ عنھا ایسی بات مت کہو خدیجہ رضی اللہ عنھا نے اس وقت میری تصدیق کی جب تمام قوم نے مجھے جھٹلایا۔وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب تمام لوگوں نے میری باتیں سننے سے انکار کر دیا۔اس نے اس وقت مجھ پر اپنا مال خرچ کیا جب کوئی شخص مجھے ایک درہم بھی دینے کے لئے تیار نہ تھا اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی سے مجھے اولا دعطا فرمائی۔ایک مرتبہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی بہن ہالہ بنت خویلد رسول اللہ اللہ کے پاس آئیں اور دروازے پر آکر اندر آنے کی صلى الله اجازت مانگی حضور علی کے کان میں جب ان کی آواز پڑی تو آپ ے نے بے چین ہو کر فرمایا کہ یہ تو بالکل خدیجہ رضی اللہ عھا کی آواز ہے معلوم ہوتا ہے مالہ آئی ہیں۔(33) حضور اللہ کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی قربانی کرتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی سہیلیوں کے ہاں ضرور گوشت بھجوایا کرتے۔حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنھا نے ایک روز اس کی وجہ پوچھی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ