خواب سراب — Page 98
یہاں پردیس میں بچے عجب سی کشمکش میں ہیں یہاں جذبات کو دو دو زبانیں مار دیتی ہیں مجھے مرتے ہوئے کہنے لگی حوا کی اک بیٹی یہاں رشتے نبھانے کی تھکا نہیں مار دیتی ہیں یہاں بیٹے ہی ہوتے ہیں حقیقی پیار کے وارث اگرچہ بیٹیاں خدمت میں جانیں مار دیتی ہیں مبارک ایک تو موضوع تمہارے جان لیوا ہیں پھر اس پہ درد سے لبریز تانیں مار دیتی ہیں 98