خواب سراب — Page 97
یہ دنیا ہے، یہاں پر داستانیں مار دیتی ہیں یہ دُنیا ہے، یہاں پہ داستانیں مار دیتی ہیں یہاں رسموں رواجوں کی چٹانیں مار دیتی ہیں یونہی پردیس میں بیٹھے ہوئے اک دن خیال آیا پرندوں کو بہت لمبی اُڑانیں مار دیتی ہیں کئی غیروں کے میٹھے بول سُن کر جان پڑتی ہے کئی اپنوں کی زہریلی زبانیں مار دیتی ہیں تمہیں محبوب کی زلفوں کے بل جینے نہیں دیتے ہمیں غالب کے مصرعوں کی اُٹھا نہیں مار دیتی ہیں تری آنکھوں کی مستی دیکھ کر واعظ کی یاد آئی وہ کہتا تھا شرابوں کی دکانیں مار دیتی ہیں 97