خواب سراب — Page 41
وہ سبز موسم جو شہر دل کے تمام رستوں میں رنگ بھر دے وہ خواب جس میں کہ جانِ جاناں گلے لگائے ، وہ شاعری ہے وہ ایک صورت جو دکھ کے دریا میں غم کی لہروں سے لڑ رہی ہو تو اس کو ناؤ مدد کو آتی نظر جو آئے، وہ شاعری ہے جو کوئے دلبر کو جانے والے قدم قدم پر دئے جلائے جو بزمِ جاناں میں بیٹھنے کا ادب سکھائے، وہ شاعری ہے یہ ہجر یاراں کے تذکرے بھی تو شاعری ہیں، مگر مبارک جو تپتے صحرا میں بارشوں کی نوید لائے، وہ شاعری ہے 41