خواب سراب — Page 39
سرِ بزم ہیں یہی تذکرے کہ بڑا ہوں میں مرا جرم ہے کہ میں بے وفا نہیں ہو سکا کسی اور شب میں سناؤں گا یہ غزل تمہیں ابھی آنکھ نم، ابھی دل دعا نہیں ہو سکا ترے عشق میں کوئی جاں بھی لے، تو بھی جانِ جاں میں یہی کہوں گا کہ حق ادا نہیں ہو سکا 39 (2009)