خواب سراب — Page 38
کوئی درد ہے جو ابھی دوا نہیں ہوسکا کوئی درد ہے جو ابھی دوا نہیں ہو سکا مگر وہ بچھڑ گیا جدا نہیں ہو سکا ہے کوئی ہے خلش جو کھٹک رہی ہے ابھی مجھے کوئی شعر ہے جو ابھی بپا نہیں ہو سکا وہ ملے اگر تو اسے کہوں اے گلاب شخص کوئی تجھ سا کیا تری خاک پا نہیں ہو سکا ترے بعد پھر میری موسموں سے بنی نہیں ترے بعد میں کبھی پھر ہرا نہیں ہو سکا 38