خواب سراب

by Other Authors

Page 27 of 129

خواب سراب — Page 27

اُن کو دیکھا تو اُن پہ فدا ہو گئے بت پرستوں سے وہ با خدا ہو گئے اُنکے در کے گدا بادشاہ ہو گئے لوگ مٹی کے وہ بن وہ کیمیا کیمیا ہو گئے گئے سیدی ایک حبشی غلام عليك الصلوة عليك السلام بے سہاروں کا وہ آسرا بن گئے بیقراروں کے دل کی صدا بن گئے درد دیکھا جہاں بھی دوا بن گئے عین گرداب میں ناخدا بن گئے عشق ایسا کیا، کہہ اُٹھے وہ تمام عليك الصلوة عليك السلام 27