خواب سراب — Page 26
وہ لطافت تھی جیسے کہ آذان ہو وہ حلاوت تھی جیسے کہ قرآن ہو وہ ہو طراوت تھی جیسے گلستان وہ سخاوت تھی ت تھی جیسے کہ طوفان ہو وہ محبت کہ عاشق ہوئے خاص و عام عليك الصلوة عليك السلام اُنکے آتے ہی موسم بدلنے لگے پھول شاخوں اپنی مچلنے لگے دل کے پتھر دعا سے پگھلنے لگے جاں بلب لوگ پھر سے سنبھلنے لگے مسکرا کے فرشتوں نے بھیجے سلام عليك الصلوة عليك السلام 26