کسر صلیب

by Other Authors

Page 92 of 443

کسر صلیب — Page 92

۹۲ کا تحقیقی اور علمی زرنگ میں مدتل جواب دیا ہے۔اہل علم حضرات سے یہ امر مخفی نہیں کہ علمی مباحثات میں بعض اوقات ضدی اور متعصب دشمن کو ساکت اور لاجواب کرنے کے لئے الزامی جوابات بھی دینے پڑتے ہیں اور اس موقع پر ایسا کرنا ہی درست اور موثر ہوتا ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی کتب میں بعض موقعوں پر عیسائی معترضین کے شہر کو دور کرنے اور ان کو خاموش کرانے کی غرض سے الزامی جوابات تحریر فرمائے ہیں۔اگر چہ حضور نے نہ اس طریق کو پسند فرمایا ہے اور نہ کثرت سے استعمال فرمایا ہے تاہم بعض اوقات با مرمجبوری الزامی جوابات دینے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے اپنی کتب میں جو الزامی جوابات دیئے ہیں وہ بڑے ہی برجستہ اور مسکیت ہیں۔ان کی تین مثالیں پیش کرتا ہوں۔ا، اسلام نے جائز اور واقعی ضرورت کے مطابق اور عدل کی رعایت ملحوظ رکھنے کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے۔لیکن عیسائی حضرات اس پر گند سے اعتراضات کیا کرتے ہیں حضور نے تحقیقی جواب دینے کے بعد الندامی رنگ میں فرمایا :- " تاریخ سے معلوم ہوا ہے کہ جس یوسف کے ساتھ حضرت مریم کی شادی ہوئی اسکی ایک بیوی پہلے بھی موجود تھی اب غور طلب یہ امر ہے کہ یہودیوں نے تو اپنی شرارت سے اور حد سے بڑھی ہوئی شوخی سے حضرت مسیح کی پیدائش کو نا جائز قرار دیا۔ان کے مقابلہ میں عیسائیوں نے کیا کیا۔عیسائیوں نے حضرت مسیح کی پیدائش کو تو بیشک اعتقادی طور پر روح القدس کی پیدائش قرار دیا اور خود خدا ہی کو مریم کے پیٹ سے پیدا کیا مگر عقد ازدواج کو نا جائز کہ کر ہی اعتراض اس شکل میں حضرت مریم کی اولاد پر کہ ایلیا اور اس طرح پر خود مسیح اور ان کے دوسرے بھائیوں کی پیدائش پر حملہ کیا۔واقعی عیسائیوں نے تعدد ازدواج کے مسئلہ پر اعتراض کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔یہ سالے (۲) دوسری مثال یہ ہے کہ قرآن مجید میں آیا ہے :- وَإِن كُنتَ فِي شَكِ کہ اگر تو اس بارہ میں کوئی شک کرتا ہے۔اسی عیسائی حضرات نے یہ استدلال کیا ہے کہ گویا : ملفوظات جلد دوم +