کسر صلیب — Page 87
7 T پھر ایک اور موقع پر فرمایا : - عیسائیوں کے ہاتھ میں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے واسطے ایک ہی سمتھیار ہے اور وہ یہی زندگی رسیح کی مراد ہے۔ناقل) کا مسئلہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ خصوصیت کسی دوسرے میں ثابت کرو۔اگر وہ خدا نہیں تو پھر کیوں اسے یہ خصوصیت دی گئی ؟ وہ حتی وقیوم ہے۔(نعوذ باللہ من ذالک) اس حیات کے مسئلہ نے ان کو دلیر کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اب اس کے مقابل پر اگر تم پادریوں پر یہ ثابت کر دو کہ مسیح مرگیا ہے۔تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ میں نے بڑے بڑے پادریوں سے پوچھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جہاد سے کہ مسیح مر گیا ہے تو ہمارا مذہب زندہ نہیں رہ سکتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ساری عمر اس بات کی تلقین کرتے رہے کہ وفات مسیح کو ثابت کرنے سے ہی عیسائیت کو مغلوب اور اسلام کو زندہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔آپ نے اپنی زندگی کے آخری خطاب میں اسی بات کا ذکرہ کیا۔نر مایا :- I و تم عیسی کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ایسا ہی عیسی موسوی کی بجائے عیسی محمدی آنے دو کہ اس میں اسلام کی عظمت ہے " سے اور پھر اپنی جماعت کو آخری وصیت کے طور پر بھی یہی نصیحت فرمائی ہے کہ ساری یہ توجہ وفات مسیح کے مسئلہ کی طرف پھیر دو۔آپ فرماتے ہیں :- " سے میرے دوستو! اب میری ایک آخری وصیت کو سنوا در ایک دانہ کی بات کہتا ہوں اس کو خوب یاد رکھو کہ تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تمہیں پیش آتے ہیں پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کرد که در حقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکا ہے۔یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف پیسٹ دو گے۔تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کہ :۔صرف مسیح ابن - مریم کی وفات پر زور دو اور پر زور دلائل سے عیسائیوں کو لاجواب اور ساکت کردو۔ے لیکچر لدھیانہ صلا د روحانی خزائن جلد ۲۰ ) :: ملفوظات جلد دہم نام :