کسر صلیب — Page 88
۸۸ جب تم مسیح کا مردوں میں داخل ہونا ثابت کر دو گے اور عیسائیوں کے دلوں پر نقش کر دو گے تو اس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔یقینا سمجھو دن کہ جب تک ان کا خدا قوت نہ ہو ان کا مذہب بھی فوت نہیں ہو سکتا۔اور دوسری تمام بحثیں ان کے ساتھ عبث ہیں ان کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پہ نہ ندہ بیٹھا ہے۔اس ستون کو پاش پاش کرد پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے "۔اے الغرضو وفات مسیح ایک ایسا کارگر حربہ ہے جب سے عیسائیت کو ابدال آباد کے لئے سرنگوں اور اسلام کو تا قیامت سر بلند کر دیا ہے۔یہ ایسا مفید اور عیسائیت کے حق میں ایسا مہلک ہتھیار ہے جس نے عیسائیت کے پر خچے اڑا دیئے ہیں اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کا ایسا روشن باب ہے کہ جس کی تعریف و توصیف میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۲ مسیحی تعلیمات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کے سلسلہ میں اس بات کو مد نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ حضور نے جہاں پر عیسائی عقائد کی تردید فرمائی ہے وہاں عیسائی تعلیمات پر بھی کڑی تنقید فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاص طور پر عیسائیت کی پیش کردہ اخلاقی تعلیمات پر اپنی کتابوں میں تفصیل سے تبصرہ فرمایا ہے اور اس طرح یہ بات بھی ثابت فرمائی ہے کہ عیسائی مذہب کی تعلیمات عمل غیر مفید اور نا قابل عمل ہیں مثلاً حضور علیہ السلام نے عفو در درگزر کے بارہ میں عیسائیت کی اس تعلیم کو کہ "میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریہ کا مقابہ نہ ہوتا بلکہ جو کوئی تیرے رہنے گال پر ٹھانچہ مار سے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے " ہے کو اپنی متعدد کتب میں ہدف تنقید بنایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ یہ بات تو الگ رہی کہ کیا عیسائیوں نے ے و به اماله او اہم حصہ دوم جنگ روحانی خزائن جلد ۳) با ہے :- سنتی میشیم ؟ اوہام