کسر صلیب

by Other Authors

Page 67 of 443

کسر صلیب — Page 67

44 تحریر فرماتے ہیں :- " عام قاعدہ نبیوں کا یہی تھا کہ ایک محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقت میں مختلف مجالس و محافل میں ان کے مناسب حال روح القدس سے قوت پا کر نفر قریں کرتے تھے مگر نہ اس زمانہ کے متکلموں کی طرح جن کو اپنی تقریر کہ تقریریں سے فقط اپنا علمی سرمایہ دیکھانا مقصود ہوتا ہے۔۔۔۔۔بلکہ انبیاء نہایت سادگی سے کلام کرتے ہیں اور جو اپنے دل سے اہمتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔ان کی گفتگو میں الفاظ تھوڑسے اور معانی بہت ہوتے تھے۔سو یہی قاعدہ یہ عاجزہ ملحوظ رکھتا ہے کے پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی ایک خوبی طرفہ بیان کی سادگی اور شیرینی ہے آپ کی غرض انشاء پردازی کے جوہر دکھانا نہ تھی اور نہ کسی ذاتی علمی وجاہت کو قائم کرنا آپ کا مقصد تھا۔آپ کا کام تویہ تھا کہ پیغام حق کو لوگوں تک پہنچایا جائے اور ایسے طریق سے پہنچایا جائے جو سب سے زیادہ موثر ہو اور دلوں کے پرانے زنگ دھو کر ان کو نور عرفان سے بھر دے کہ پس آپنے ارشاد قرآنی : وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ : کے مطابق موقع کی مناسبت اور ضرورت وقت کو مد نظر رکھا اور ایسا کلام پیش فرمایا جو دلوں پر اثر کرنے والا تھا۔اس میں شک نہیں کہ آپ نے بعض عربی کتب انتہائی مشکل زبان میں تحریر فرمائی ہیں لیکن ان کا مقصد صرف اہل عرب پر حجت تمام کر نا اور ان کے عربی دانی کے غرور کو توڑنا تھا۔عمومی طور پر آپ کی تحریر شہری سادہ ، دلنشین اور ہر قسم کے تکلف سے پاک ہے اور یہ آپ کے علم کلام کی بہت بڑی خوبی ہے۔آٹھویں خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا داد علم کلام کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ حضور نے جس بات کو بیان فرمایا اس کو پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔اسی طرح جس دلیل کو شروع فرمایا اس کو ہر لحاظ سے مکمل صورت میں بیان فرمایا۔اس سلسلہ میں جتنے 4-100 سه : فتح اسلام مثلت اروحانی خزائن جلدم بہ کے در سورۃ النحل : ۱۲۶ به : :